رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت |
ہم نوٹ : |
|
فصلِ سوم 114۔عَنْ رَّجُلٍ مِّنْ اَصْحٰبِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُنَّا فِیْ مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلٰی رَأْسِہٖ اَثَرُمَاءٍ فَقُلْنَا یَارَسُوْلَ اللہِ نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ قَالَ اَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذِکْرِ الْغِنٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا بَاْسَ بِالْغِنٰی لِمَنِ اتَّقَی اللہَ عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّۃُ لِمَنِ اتَّقٰی خَیْرٌ مِّنَ الْغِنٰی وَطِیْبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِیْمِ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ؎ ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر غسل کرنے کی تری تھی، ہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! اس وقت ہم آپ کوخوش دیکھتے ہیں۔ فرمایا:ہاں! راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد لوگ دولت مندی کی گفتگو میں مشغول ہوگئے ( کہ وہ اچھی ہے یا بُری ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ گفتگو سن کر) فرمایا جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرے اس کے لیے دولت مندی بُری چیز نہیں ہے۔ اور متقی کے لیے صحت ( جسمانی ) دولت سے بہتر ہے اور خوش دلی وخوش حالی اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ 115۔وَعَنْ سُفْیَانَ الثَّوْرِیِّ قَالَ کَانَ الْمَالُ فِیْمَا مَضٰی یُکْرَہُ فَاَمَّا الْیَوْمَ فَھُوَ تُرْسُ الْمُؤْمِنِ وَقَالَ لَوْ لَاھٰذِہِ الدَّنَانِیْرُ لَتَمَنْدَلَ بِنَاھٰؤُلَاءِ الْمُلُوْکُ وَقَالَ مَنْ کَانَ فِیْ یَدِہٖ مِنْ ھٰذِہٖ شَیْءٌ فَلْیُصْلِحْہُ فَاِنَّہٗ زَمَانٌ اِنِ احْتَاجَ کَانَ اَوَّلَ مَنْ یَّبْذُلُ دِیْنَہٗ وَقَالَ الْحَلَالُ لَا یَحْتَمِلُ السَّرَفَ۔ رَوَاہُ فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ؎ ------------------------------