رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت |
ہم نوٹ : |
|
ترجمہ:حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگلے زمانے میں مال کو بُرا سمجھا جاتا تھا لیکن آج کل مال مومن کی ڈھال ہے۔حضرت سفیا ن کہتے ہیں کہ اگر یہ دینار ہمارے پاس نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہم کو اپنا رومال بنا ڈالتے یعنی ذلیل وخوار بنادیتے۔ اور حضرت سفیان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کچھ مال ہو اس کو چاہیے کہ اس کی اصلاح کرے ( یعنی اس کو بڑھانے کی تدبیریں کرے اور ضایع ہونے سے بچائے ) اس لیے کہ ہمارا یہ زمانہ ایسا زمانہ ہے کہ اگر اس میں کوئی محتاج ہوگا تو وہی سب سے پہلا شخص ہوگا جو اپنے دین کو دنیا کے عوض فروخت کردے گا۔ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مالِ حلال فضول خرچی میں ضایع نہیں ہوتا۔ تشریح: یعنی مالِ حلال میں اسراف نہ کرنا چاہیے اور احتیاط سے خرچ کرے تاکہ زیادہ دن تک دین کی تقویت کا سبب رہے۔ یا مراد یہ ہے کہ مالِ حلال کم ہوتا ہے اور اس قدر نہیں ہوتا کہ اس کو فضول کاموں میں اُڑایا جاوے۔ 116۔وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُنَادِیْ مُنَادٍ یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَیْنَ اَبْنَاءُ السِّتِّیْنَ وَھُوَ الْعُمْرُ الَّذِیْ قَالَ اللہُ تَعَالٰی اَوَلَمْ نُعَمِّرْ کُمْ مَّایَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَکُمُ النَّذِیْرُ۔ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِ یْمَانِ؎ ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک پکارنے والا ( فرشتہ ) یہ اعلان کرے گا کہ ساٹھ برس کی عمر والے لوگ کہاں ہیں اور یہ عمر وہ عمر ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَوَ لَمۡ نُعَمِّرۡکُمۡ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیۡہِ مَنۡ تَذَکَّرَ وَ جَآءَکُمُ النَّذِیۡرُ؎ یعنی کیا ہم نے تم کو ایسی عمر نہیں دی جس میں نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کرے حالاں کہ تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا ( یعنی بڑھاپا یا قرآن یا رسول یا موت)۔ ------------------------------