ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
اِس خواب کا مصداق دارُالعلوم اور اُس کی شاخوں کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ حضرت مولانا رفیع الدین صاحب رحمة اللہ علیہ جو حضرت شاہ عبد الغنی صاحب کے خلیفہ اعظم تھے، شاہ عبد الغنی صاحب تلامیذ میں حضرت نانوتوی و حضرت گنگوہی اور خلفاء میں حضرت مولانا رفیع الدین پر فخر فرمایا کرتے تھے چنانچہ تصوف میں مولانا رفیع الدین صاحب کا بڑا درجہ تھا انہوں نے خواب دیکھا تھا کہ '' علم کی کنجیاں میرے ہاتھ میں دی گئی ہیں '' وہ تعجب کرتے تھے کہ میرا علم میں کوئی بڑا درجہ نہیں ہے پھر ایسا کیوں ہوا ؟ مگر جب وہ دارُ العلوم کے مہتمم بنائے گئے تو معلوم ہوا کہ اِن کے ذریعے سے علم دُنیا میں پھیلا۔ ایک دوسرا خواب اِنہوں نے ہی یہ دیکھا تھا کہ '' مدرسے کے چمن میں خانۂ کعبہ ہے اور لوگ اُس کا طواف کر رہے ہیں '' اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کی معنوی حیثیت اسلام میں وہ شان رکھتی ہے جو عالَم میں خانہ کعبہ کے انوار و برکات لیے ہوئے ہے۔ ہماری عملی حالت گو بہت گری ہوئی ہے مگر خدا کا یہ عظیم الشان احسان ہے کہ اُس نے ہم سے اس مر کز کی خدمت لی۔ حضرت مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ کے اُن مکاتیب میں جو ابھی چھپے نہیں ہیں، میں نے لکھا دیکھا ہے کہ جب جہانگیر نے ان کو قید کر کے دہلی بلایا تو ان کا دیوبند گزر ہوا تو فرمایا کہ '' اِس جگہ سے علمِ نبوت کی بوآتی ہے '' چنانچہ اِس جگہ کو اللہ تعالیٰ نے علم شریعت و علم نبوت کا مظہر قرار دیا ۔ بہرحال یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ نے ہم سب سے یہ خدمت لی، دارُالعلوم کو جو فضیلت ان بزرگوں کے ذریعہ سے حاصل ہے وہ کسی دوسری جگہ کو نصیب نہیں ہے، ہمارے محترم بزرگ حضرت مہتمم صاحب گو عمر میں مجھ سے چھوٹے ہیں مگر ان کو خاندانی جو نسبت حاصل ہے اور ان کا جو منصب ہے اُس کے اعتبار سے وہ ہمارے