ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
یہ بھی دین کا ایک ستون ہے اور اِس میں یہ حکمت ہے کہ چونکہ مخلوق کو اللہ سے محبت رکھنے کا حکم ہے اور مسلمان بندے اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعوی بھی کرتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے کو اپنی محبت کا معیار اور آزمائش کی کسوٹی بنا دیا ہے تاکہ مدعیانِ ایمان کے دعوے کا جھوٹ سچ کھل جائے چونکہ عام قاعدہ ہے کہ انسان اپنے اُس محبوب کے نام پر جس کی محبت قلب میں زیادہ ہوتی ہے اپنی تمام مرغوب اور پیاری چیزیں لٹا دیا کرتا ہے پس مال جیسی پیاری چیز کا اللہ تعالیٰ کے نام پر خرچ کرنا اللہ کے ساتھ محبت سے بڑھے ہوئے ہونے کی علامت ہے اور بخل کرنا اللہ کی محبت نہ ہونے کی دلیل ہے۔ صدقہ و خیرات دینے والے مسلمان تین طرح کے ہیں :(١) خیرات کا اعلیٰ درجہ : ایک تو وہ ہے جنہوں نے جو کچھ بھی پایا سب راہ ِخدا میں دے دیا اور اللہ کے ساتھ محبت کرنے کا دعوی سچ کر دکھایا مثلاً حضرت صدیق عتیق رضی اللہ عنہ ١ کہ جو کچھ بھی گھر میں تھا انہوں نے سب آنحضرت ۖ کے حضور میں لارکھا اور جب آنحضرت ۖنے پوچھا کہ اے ابوبکر(رضی اللہ عنہ) اپنے لیے کیا رکھا ؟ تو عرض کیا ''اللہ اور اللہ کا رسول'' اِس موقع پر حضرت فاروق رضی اللہ عنہ ٢ بھی بغرض ِخیرات مال لائے تھے اور اُن سے بھی جنابِ رسول ۖنے یہی سوال کیا تھا کہ اے عمر (رضی اللہ عنہ)تم نے اپنے لیے کیا رکھا ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ''جس قدر لایا ہوں اُسی قدر چھوڑ آیا ہوں''اُس وقت جنابِ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ''تم دونوں کے مرتبوںکا فرق تم دونوں کے جواب سے ظاہر ہے۔''(٢) خیرات کا متوسط درجہ : دوسرے درجے میں وہ متوسط لوگ ہیں جو سارا مال تو اللہ کے نام پر نہیں لُٹاتے مگر اِس کے ------------------------------ ١ سچا و آزاد کیا ہوا ،دونوں لقب حضرت ابوبکر کے ہیں، سچے اور دوزخ سے آزاد کیے ہوئے تھے۔ ٢ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہ حق و باطل میں خوب فرق کرنے والے تھے۔