ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
اگرچہ حاضرین مصافحہ کے لیے بیتاب تھے مگر بعض اشخاص نے اِس کا انتظام رکھا کہ قطار ٹوٹنے نہ پائے اور حضرت مہتمم صاحب بسہولت مجمع سے گزر جائیں، جلوس کی شکل میں حضرت ممدوح عصر سے کچھ پہلے دارُالعلوم پہنچے مجمع نودرہ کی عمارت کے سامنے جمع ہو گیا اور حضرت مہتمم صاحب نے حضرات ِمدرسین ، محترم اراکین، عزیز طلباء اور باشندگانِ شہر کی محبت وعقیدت کا شکریہ ادا فرمایا۔ '' (کوائف دارُالعلوم دیوبند، محرم تا ربیع الاوّل ١٣٧٠ھ ص ٢٧، ٢٨ ) حضرت قاری محمد طیب صاحبکی دیوبند واپسی کے بعد دارُالعلوم دیوبند کے دار الحدیث فوقانی میں ''جلسۂ خیر مقدم'' منعقد ہوا، یکم ربیع الاوّل ١٣٧٠ھ/١١ دسمبر ١٩٥٠ء کی تاریخ تھی اور جلسے کا آغاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا، حضرت شیخ الاسلام کی تحریک اور نائب مفتی احمد علی صاحب کی تائید سے حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب صدر جلسہ قرار پائے ،قاری حفظ الرحمن کی قراء ت سے جلسے کا آغاز ہوا، حافظ اخلاق احمد صاحب محر ر دار الافتاء نے حضرت مولانا مفتی مہدی حسن صاحب کی جانب سے فارسی کا قصیدہ ٔ خیر مقدم پڑھ کر سنایا، محمد حسیب دیوبندی طالب علم نے اُردو نعت اور فضل الرحمن ابن قاری حفظ الرحمن صاحب نے عربی قصیدہ سنایا ،اِس کے بعد حضرت شیخ الاسلام نے تقریر فرمائی۔ خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا : اے تماشا گاہِ عالَم رُوئے تو توکجا بہر تماشا مے روی ١ نہایت خوشی کا مقام ہے جس جگہ ہم سب جمع ہیں یہ کوئی معمولی جگہ نہیں ہے، تذکرة الرشید میں ہے کہ حضرت نانوتوی قدس سرہ نے خواب دیکھا تھا کہ '' میں خانہ کعبہ کے در پر کھڑا ہوں اور میرے پیروں کے نیچے سے نہریں نکل کر تمام عالَم میں پھیل رہی ہیں۔'' ------------------------------ ١ اے وہ انسان کہ تیرا چہرہ سارے عالَم کی تماشہ گاہ ہے تو اب تماشہ کے لیے کہاں جاتا ہے۔