ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
سب کے سردار ہیں، ہمارے لیے افسوس کاموقع تھا کہ وہ دوسری جگہ پاکستان رہ جاتے اگرچہ جانا عارضی تھا مگر یہ افواہیں سن سن کرکہ اب واپسی نہیں ہوگی ہم کو تکلیف ہوتی تھی مگر یوسفِ گم گشتہ باز آید بہ کنعاں غم مخور ١ الحمد للہ ! ہمارے صدر مہتمم صاحب حضرت نانوتوی کی آنکھوں کے تارے تشریف لے آئے ہیں، ہم جس قدر بھی خوشی کا اظہار کریں کم ہے، اگر ان کا قیام پاکستان میں ہوتا تو بھی فیض سے خالی نہ ہوتا مگر ہمارے لیے قلق کا باعث ہوتا۔'' (کوائف دارُالعلوم دیوبند ١٣٧٠ھ ص ٣٥ تا ٣٧) حضرت شیخ الاسلام کے استقبالیہ خطبے کے بعد حضرت حکیم الاسلام نے حضرت شیخ الاسلام کی خواہش پر اپنے تاثرات پاکستان کے سفرکے بارے میں بیان فرمائے، اس میں جوبات یہاں پیش کرنی ہے وہ یہ ہے : کہاں میں اور کہاں یہ نکہت ِگل نسیمِ صبح تیری مہربانی میں حیران ہوں کہ بیانِ تاثرات کے اِس بوجھ کو کس طرح اُٹھاؤں ! مجمع اکابر کاہے اساتذہ کا اجتماع ہے، بزرگوں کے مجمع میں قوت ِ گویائی یارا نہیں دیتی اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے، ارشاد ہے کہ اپنے اُن تاثرات کااظہار کروں ہر شخص کچھ نہ کچھ سفر سے لے کر آتا ہے، اوّل تو پاکستان جانے میںجو عظیم الشان نفع مجھے ہواوہ دعائیں ہیںجو بزرگوں نے فرمائیں اگر میں پاکستان نہ جاتا تو یہ دعائیں حاصل نہ ہوتیں پھر بزرگوں کے حوصلہ افزا کلمات میسر نہ ہوتے، حضرت مولانا سیّد مہدی حسن صاحب نے اپنی نظم میں جس تاثر کا اظہار فرمایا وہ میرے لیے باعث ِ فخر ہے اور حضرت شیخ (مولانا حسین احمد ) مدنی مد ظلہ العالی کے بارے میں تو میں کیا عرض کروں وہ تو ہم سب کے لیے اِنشاء اللہ وسیلۂ نجات ہیں، حضرت ------------------------------ ١ غم نہ کر کہ گم شدہ یوسف دوبارہ کنعان میں واپس آئے گا ۔