ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2017 |
اكستان |
|
نے اِس ناکارہ کے بارے میں جو کلمات فرمائے ہیں میری درخواست یہ ہے کہ وہ اِنہیں یاد رکھیں اور قیامت میں اِن ہی الفاظ میں گواہی دے دیں تاکہ میرے لیے وہاں نجات کا باعث ہوں، کہ یہ کلمات ہی میرے لیے دستاویزِ نجات ہیں ١ ۔ '' ( کوائف دارُالعلوم دیو بند ١٣٧٠ھ ص ٣٧ )سیاسی مسلک : حضرت قاری محمد طیب صاحب دارُالعلوم دیوبند کے اہتمام کے جس عظیم الشان عہدے پر تھے تواپنی شان کے مطابق غیر جانبدار رہے یعنی سیاسی گہماگہمی سے الگ رہے اور دارُالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین کے عہدے کاشخص وقت کی سیاست سے ہمیشہ وابستہ رہا ہے۔ حضرت قاری صاحب نے اس شان کی لاج رکھی لیکن جہاں مسلمانوں کے لیے ضروری سمجھا وہاں سیاسی میدان میں ان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔ بنیادی طور پر حضرت قاری محمد طیب صاحب اپنے دادا حضور حجةالاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتوی، شیخ الاوّل شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن محدث دیوبندی اور اپنے اُستاذ اکبر حضرت علامہ سیّد محمد انور شاہ کشمیری علیہم الرحمہ کے سیاسی فکر و مشرب کے امین تھے، خلافت کی تحریک میں حضرت حکیم الاسلام کی خواہش کی تکمیل کی ایک یاد گار ''الاحکام القرآنیہ فی تحریم موالاة البر طانیہ یعنی خانقاہ ِ امدادیہ کے فتوے کا مفصل جواب '' ہے اس رسالے کے سر ورق پر یہ عبارت بھی ہے : ''حسب ِفرمائش مولانا مولوی محمد طیب صاحب سلمہ صدر جمعیت محمودیہ دارُالعلوم دیوبند ...... مصنفہ بندہ محمد اِدریس کا ندھلوی مدرس دارُالعلوم دیوبند۔'' ------------------------------ ١ مولانا سیّد محبوب رضوی تحریر فرماتے ہیں کہ اِس موقع پر وفور جذبات سے حضرت مہتمم صاحب پر رِقت وگریہ طاری تھا، ممدوح کی اِس حالت کا مجمع پر بھی زبردست اثر پڑا اور لو گوں کے بے ساختہ آنسو نکل آئے۔