ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2016 |
اكستان |
|
کریں کہ یہ مسلمان ہے یا نہیں ؟ کوٹہ سسٹم کے تحت ایک یو نیورسٹی یا کالج یا کسی سر کاری اِدارہ میں ایک غیر مسلم خود کو مسلمان کہے توکیااُس کے متعلق اِدارہ کے سر براہ یاعدالت کو حق حاصل ہے یا نہ کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ یہ شخص مسلمان ہے یا نہ ؟ غرض تفصیلی بحث کے بعد مر زا نا صر کو تسلیم کرنا پڑا کہ ہاں ! حکومت یا اِدارے کو ایساکرنے کاحق حاصل ہے۔ جنابِ عالی ! آج قومی اسمبلی کی اِس بحث کا تمام سر کاری ریکارڈ خود حکومت نے شائع کر دیا ہے۔ توجہ طلب یہ اَمر ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ''جس شخص کو میری دعوت پہنچی اوراُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں، وہ خدا کے نزدیک قابلِ مواخذہ اور جہنمی ہے۔ '' اِسی طرح قادیانی جماعت کے دُوسرے چیف گرومرزا محمود نے ''آئینہ ٔ صداقت'' نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ''جو شخص مر زا قادیانی کو نہیں مانتا اگر چہ اُس نے مرزا کا نام بھی نہ سنا ہووہ کافر ہے'' پھر مرزا غلام اَحمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر اَحمد قادیانی کا اپنی کتاب ''کلمة الفصل'' میں کہنا کہ ''مر زا کے نہ ماننے والے نہ صرف کافر بلکہ پکے کا فر اور دائرہ اِسلام سے خارج ہیں'' اِن حوالہ جات کے ہوتے ہوئے گویا ٹی وی اَینکر پر سن جناب حمزہ علی عباسی قادیانیوں کو تو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ پوری دُنیا کے مسلمان کو غیر مسلم قرار دیں اور اگر ایک اِسلامی اسٹیٹ طویل بحث و مباحثہ غورو فکر واِجتہاد کے بعد قادیانیوں کے متعلق فیصلہ کرتی ہے تو وہ غلط ہے۔ یہ فلسفہ ٹی وی پر بیان کرنا بلا وجہ نہیں، یہ ایک بہت بڑی گہری چال ہے جو دشمن