ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2013 |
اكستان |
|
سکونت کرنے والے بتادیجیے، حوریں دُعائیں کرتی ہیں کہ اِس ماہ میں اپنے بندوںمیں ہمارے لیے وہ شوہر مقرر فرمادیجیے جس نے خود کو رمضان کے مہینے میں روک رکھا ہو ،کوئی نشہ کی چیز نہ پی ہو، کسی مسلمان پر بہتان نہ لگایا ہو، کوئی گناہ نہ کیا ہو، اللہ تعالیٰ ہر رات سو حوروں سے اُس کا رشتہ جوڑ دیتے ہیں اَور اُس کے لیے جنت میں ایک محل سونا چاندی یاقوت وزَبر جد سے اِتنا عظیم الشان تیار کردیتے ہیں کہ اگر ساری دُنیا کو اُس میں جمع کردیا جائے تو صرف اِتنی جگہ دُنیا میں بکریوں کا تھان۔ اَور جو کوئی نشہ کی چیز پی لے گا یا کسی مسلمان پر تہمت لگادے گا یا کوئی گناہ کرلے گا، اللہ تعالیٰ اُس کے سال بھر کے عمل ضائع کردے گا، تم رمضان کے مہینے سے ڈرتے رہو کہ وہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اِس بات سے کہ اُس میں کوئی کوتاہی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گیارہ مہینے مقرر کر دیے جن میں نعمتیں کھاتے اَور لذتیں لیتے رہتے ہو اَور اپنے لیے ایک رمضان کا مہینہ مقرر کیا ہے تو اِس میں ہربات سے بچتے رہو۔(طبرانی) (٨) حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ حضور ۖ ایک دِن ممبر کی طرف چلے ایک سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر دُوسری پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر تیسری پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ جب ممبر سے نیچے تشریف لے آئے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ۖ)ہم نے آج آپ سے ایک کلام سناہے۔ فرمایا کیا تم نے اُس کو سن لیا عرض کیا جی ہاں فرمایاجب میں ایک سیڑھی پر چڑھا تو جبرائیل سامنے آئے اَور کہا ہلاک ہوجائے وہ کہ جس نے ماں باپ (دونوں) یاایک کو بڑھاپے میں پایا اَور جنت میں داخل نہ ہوا، میں نے کہا آمین (پھر) بولے ہلاک ہوجائے وہ کہ آپ کا ذکر اُس کے پاس ہو اَور وہ درُود نہ پڑھے، میں نے کہا آمین (پھر) بولے ہلاک ہوجائے وہ کہ جس نے رمضان پایا اَور اُس کی بخشش نہ ہوئی میں نے کہا آمین۔ (طبرانی) (٩) ہر شے کے لیے زکوة ہے، جسم کی زکوة روزہ ہے اَور روزہ نصف صبر ہے ۔(اِبن ماجہ ) ہر اِفطار پر بہت لوگ دوزخ سے آزادہوتے ہیں (مسنداَحمد)اَورہر رات بہت لوگ دوزخ سے آزادہوتے ہیں۔ (ترمذی)