ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2013 |
اكستان |
|
اِمتحان ہے۔ دیکھنا ہے کون پاس ہوتا ہے اَور کون فیل، کون کامیاب ہوتا ہے اَور کون ناکام ؟ ''روزہ'' صرف اِسی کا نام ہے مگر نیت کے ساتھ یعنی صرف خدا تعالیٰ کی تعمیل اِرشاد میں اِن تین چیزوں سے رُکنا، نہ کہ مجبوری یا بیماری یا مشغولی یا بے اِلتفاتی میں، پھر اِس پر بے نہایت ثواب نے اِس کو دین کا سیزن بنادیا ہے۔ (١) ہرنیکی کا دَس گناتا سات سو گنا اَجر ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ صرف میرے ہی لیے ہے میں ہی اِس کی جزا دُوں گا۔ میری ہی وجہ سے اپنی خوہشات اَور کھانے کو ترک کیا ہے۔یعنی بغیر فرشتوں کے واسطے کے بے اِنتہاء براہِ راست خود اَور اپنی شان کے موافق جزا عطا فرمائیں گے۔ (٢) روزہ دار کے لیے دو بار خوشی ہے اِفطار کے وقت اَور اپنے پروردگار سے ملنے کے وقت (صحاح ستہ)کہ اِس امتحان میں کامیاب ہوگیا۔ روزانہ اِفطار کے وقت اَور آخر میں عید کی خوشی اَور قیامت میں بے اِنتہاء اَجر کی خوشی۔ (٣) روزہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ خالی ہونے سے ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مُشک کی خوشبو سے عمدہ ہے۔ (صحاح ستہ) (٤) روزہ ایک ڈھال ہے جب تک یہ اِس کو شَق نہ کرے (نسائی) یعنی تمام گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ فرمایا جھوٹ اَور غیبت سے شق نہ کرے۔ (طبرانی) روزہ دوزخ سے بچنے کا مضبوط قلعہ ہے۔ (احمد و بیہقی) (٥) روزہ کی مثل کوئی چیز نہیں (نسائی) جس نے بغیر کسی مرض یا عذر کے رمضان کا روزہ نہ رکھا سارے زمانہ کے روزے بھی قضا نہ بن سکیں گے۔ (مسنداَحمد، ترمذی، اَبوداؤد ، اِبن ماجہ) (٦) جو رمضان کے روزے اِیمان کے لیے اَور خدا تعالیٰ کے خوشنودی کے لیے رکھے گا اُس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (بخاری) (٧) حضور ۖ نے فرمایا کہ جنت کو سال سے سال تک رمضان کے لیے مزین کیا جاتا ہے جب رمضان آتاہے تو جنت دُعا کرتی ہے کہ اے اللہ! اِس مہینہ میں اپنے بندوں میں سے مجھ میں