ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2013 |
اكستان |
|
(٣) وجوہ ِ اعراب کا اِختلاف، جس میں اعراب یا حرکات مختلف قراء توں میں مختلف ہوں (اِس کی مثال وَلاَ یُضَارَّ کَاتِب اَور لاَ یُضَارُّ کَاتِب اَور ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ اَور ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدِ) (٤) الفاظ کی کمی بیشی کا اِختلاف، کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ کم اَور دُوسری میں زیادہ ہو (مثلاً ایک قرا ء ت میں وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُ نْثٰی ہے اَور دُوسری میں وَالذَّکَرَ وَالْاُنْثٰی ہے۔ ) اَور اِس میں وَمَا خَلَقَ کا لفظ نہیں ہے، اِسی طرح ایک قراء ت میں تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ اَور دُوسری میں تَجْرِیْ تَحْتَھَا الْاَنْھَارُ ۔ (٥) تقدیم و تاخیر کا اِختلاف، کہ ایک قراء ت میں کوئی لفظ مقدم اَور دُوسری میں مؤخر ہے (مثلاً وَجَائَ تْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ اَور جَائَ تْ سَکْرَةُ الْحَقِّ بِالْمَوْتِ) (٦) بدلیّت کا اِختلاف، کہ ایک قراء ت میں ایک لفظ ہے اَور دُوسری قراء ت میں اُس کی جگہ دُوسرالفظ (مثلاً نُنْشِزُ ھُا اَور نَنْشُرُھُا، نیز فَتَبَیَّنُوْا فَتَثَبَّتُوْا اَور طَلْحٍ اَور طَلْعٍ ) (٧) لہجوں کا اِختلاف، جس میں تفخیم ، ترقیق، امالہ، قصر، مد، ہمز، اِظہار اَور اِدغام وغیرہ کے اِختلاف شامل ہیں (مثلاً مُوْسٰی ایک قراء ت میں اِمالہ کے ساتھ ہے اَور اُسے مُوْسَیْ کی طرح پڑھا جاتا ہے، اَور دُوسری میں بغیر اِمالہ کے ہے) ۔(علوم القرآن ص ١٠٧)