ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2013 |
اكستان |
|
''حضرت اَبوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ۖ سے نقل کرتے ہیں آپ ۖ نے فرمایا تحقیق سب سے زیادہ اَپنی رفاقت اَور اَپنے مال سے مجھ پر اِحسان کرنے والے اَبوبکر ہیں اَور اگر میں خدا کے سوا کسی کو خلیل بناتا تواَبو بکر کو بناتا لیکن اُن سے اِسلام کی اُخوت اَور محبت ہے، مسجد میں سوا اَبو بکر کے اَور کسی کی کھڑکی نہ باقی رکھی جائے۔'' یہ حدیث ایک ٹکڑا ہے اُس طویل خطبہ کا جو وفات سے پانچ دِن پہلے رسولِ خدا ۖ نے پڑھا تھا۔ علامہ سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں اِس حدیث کو متواتر کہا ہے ( یعنی متواتر معنوی) کیونکہ حسب ِ ذیل صحابہ کرام اِس کے راوی ہیں۔ اِبن ِ عباس ، اِبن ِزبیر، اِبن ِ مسعود، جندب بن عبداللہ ، براء بن عازب، کعب اِبن ِ مالک، جابر بن عبداللہ، اَنس بن مالک، اَبو واقد لیثی، اَبو المعلیٰ، اُم المؤمنین حضرت عائشہ، اَبوہریرہ، اِبن ِ عمر، اَبو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ترمذی کی روایت میں اِتنا لفظ اَور زیادہ ہے کہ ہر ایک کے اِحسان کا بدلہ ہم نے کردیا ہے سوائے اَبو بکر کے، اُن کے اِحسان کا بدلہ قیامت کے دِن خدا دے گا۔ (٢) عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِیَّ ۖ بَعَثَہ عَلٰی جَیْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ فَاَتَیْتُہ ، فَقُلْتُ اَیُّ النَّاسِ اَحَبُّ اِلَیْکَ قَالَ عَائِشَةُ قُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ اَبُوْھَا۔ (بخاری و مسلم) '' حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ۖ نے اِن کو غزوۂ ذات السلاسل پر سردار بنا کر بھیجا توکہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ۖ کے پاس گیااَور میں نے پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ ۖ کو کس سے ہے، آپ ۖ نے فرمایا عائشہ سے ،میں نے کہا مردوں میں، فرمایا اَبو بکر سے۔'' رسولِ خدا ۖ نے جو حضرت اَبو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کوسردارِ لشکر بنایا تو اُن کو خیال ہوا کہ رسول اللہ ۖ مجھے سب سے زیادہ چاہتے ہیں اِسی