ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012 |
¾اكستان Ù |
|
(٨) مجاہدین کے سب سے پہلے معرکہ میں جو اَکوڑہ (صوبہ سرحد) میں پیش آیا جس میں ٣٧ مجاہدین شہادت سے سر فراز ہوئے اُن میں دیوبند کے ایک صاحب عبدالرزاق بھی شامل تھے اُس معرکہ میں ٣٥ مجاہدین زخمی ہوئے سات سو سکھ فوجی قتل ہوئے۔ (٩) عبدالعزیز : شہدائے بالاکوٹ میں دیوبند کے ایک اَور بزرگ عبدالعزیز کا اسم ِ گرامی بھی ملتا ہے ،رحمة اللہ علیہم اجمعین۔ (١٠) غازی حفیظ اللہ : دیوبند کے ایک بزرگ شیخ اَبوالبرکات (جن کے نام پر محلہ اَبوالبرکات موسوم ہے) کی اَولاد میں سے تھے سیّد صاحب کی معیت میں شریک ِ جہاد رہے۔ یہ سیّد صاحب کے خلیفہ بھی تھے اَور اِن کے ہاتھوں پر اِن کے والد ماجد نے بیعت کر لی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن کی پاکیزگی ٔسیرت کی عجیب حالت تھی۔ غلام رسول مہر صاحب نے لکھا ہے حفیظ اللہ دیوبندی سیّد صاحب کے پاس نالہ میں (جو وہاں پہاڑی بارانی نالہ) پہنچ گئے، وہاں اُن کی بائیں آنکھ کے نیچے تیر لگا اَور اُس کا پیکال پار ہوگیا۔ میاں جی چشتی نے اُنہیں پن چکیوں کے پاس سایہ دار درختوں میں بھیج دیا راستہ میں اُنہیں اَمان اللہ خاں لکھنؤ ی اَور چند غازی ملے جو سیّد صاحب کے پاس جارہے تھے۔ حفیظ اللہ بھی اُن کے ساتھ جانے لگے دُوسرے غازیوں نے اِنہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ زخم کی وجہ سے معذور ہیں۔ وہ پھر پن چکیوں کے پاس پہنچے اَور ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے رہے بعد میں سیّد صاحب کا فِیل بان اُن کا ہاتھ پکڑ کر میدان سے باہر لے گیا ١ بعد میں اِن پر سیّد صاحب سے عشق (تعلق کی بناء ) پر وارفتگی کا عالم طاری رہا۔ اہل ِدیوبند کے اِصرار پر دیوبند آگئے تھے اَور غازی کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ تَغَمَّدَھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا بِرَحْمَتِہ وَرِضْوَانِہ وَاَسْکَنَھُمُ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلٰی مِنْ جَنَانِہ آمِیْن ۔ ١ تاریخ ِ دیوبند بحوالہ سیّد اَحمد شہید ص ٤٢٤ بحوالہ وقائع جلد سوم ص ٢١٠ و ٢١١