Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2012

¾اكستان Ù

39 - 65
(٨)  مجاہدین کے سب سے پہلے معرکہ میں جو اَکوڑہ (صوبہ سرحد) میں پیش آیا جس میں ٣٧ مجاہدین شہادت سے سر فراز ہوئے اُن میں دیوبند کے ایک صاحب عبدالرزاق بھی شامل تھے اُس معرکہ میں ٣٥ مجاہدین زخمی ہوئے سات سو سکھ فوجی قتل ہوئے۔ 
(٩)  عبدالعزیز   :  شہدائے بالاکوٹ میں دیوبند کے ایک اَور بزرگ عبدالعزیز کا اسم ِ گرامی بھی ملتا ہے ،رحمة اللہ علیہم اجمعین۔ 
(١٠) غازی حفیظ اللہ  :  دیوبند کے ایک بزرگ شیخ اَبوالبرکات (جن کے نام پر محلہ اَبوالبرکات موسوم ہے) کی اَولاد میں سے تھے سیّد صاحب کی معیت میں شریک ِ جہاد رہے۔ یہ     سیّد صاحب کے خلیفہ بھی تھے اَور اِن کے ہاتھوں پر اِن کے والد ماجد نے بیعت کر لی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن کی پاکیزگی ٔسیرت کی عجیب حالت تھی۔ 
غلام رسول مہر صاحب نے لکھا ہے حفیظ اللہ دیوبندی سیّد صاحب کے پاس نالہ میں (جو وہاں پہاڑی بارانی نالہ) پہنچ گئے، وہاں اُن کی بائیں آنکھ کے نیچے تیر لگا اَور اُس کا پیکال پار ہوگیا۔     میاں جی چشتی نے اُنہیں پن چکیوں کے پاس سایہ دار درختوں میں بھیج دیا راستہ میں اُنہیں اَمان اللہ خاں لکھنؤ ی اَور چند غازی ملے جو سیّد صاحب کے پاس جارہے تھے۔ حفیظ اللہ بھی اُن کے ساتھ جانے لگے دُوسرے غازیوں نے اِنہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ زخم کی وجہ سے معذور ہیں۔ وہ پھر پن چکیوں کے پاس پہنچے اَور ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے رہے بعد میں سیّد صاحب کا فِیل بان اُن کا ہاتھ پکڑ کر میدان سے باہر لے گیا  ١  بعد میں اِن پر سیّد صاحب سے عشق (تعلق کی بناء ) پر وارفتگی کا عالم طاری رہا۔ اہل ِدیوبند کے اِصرار پر دیوبند آگئے تھے اَور غازی کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ 
تَغَمَّدَھُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا بِرَحْمَتِہ وَرِضْوَانِہ وَاَسْکَنَھُمُ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلٰی مِنْ جَنَانِہ آمِیْن ۔
  ١   تاریخ ِ دیوبند بحوالہ سیّد اَحمد شہید   ص ٤٢٤ بحوالہ وقائع جلد سوم  ص  ٢١٠  و  ٢١١
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
3 حرف آغاز 4 1
4 گھر والوں کے تاثرات : 7 3
5 دفعہ نمبر ٢ : جمعیة علماء اِسلام پاکستان 8 3
6 دفعہ نمبر ٣ شرائط رُکنیت : 9 3
7 دفعہ نمبر ٢٧ پرچم : 10 3
8 مرزا کا اِقرار ، میںبرطانیہ کا خود کاشتہ پودا : 13 3
9 اہم سیاسی نکتہ ،گائیڈ لائن : 13 3
10 آپ ۖ کا اِرشاد اَور اُس کی وجہ : 14 3
11 اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہود و عیسائیوں کی خرافات : 14 3
12 نبی علیہ السلام کی تعلیمات ہر طرف پھیل گئیں : 14 3
13 آپ ۖ کے خاتم النبیین ہونے کی دلیلیں ،علم کی برکت سے خیر القرون میں اپنے کو پانا : 15 3
14 ایک عامل کا قادیانیوں سے مباحثہ : 15 3
15 نبی نہیں'' مجدد'' آتے رہیں گے : 16 3
16 مرزا کا بیٹا اِس پر اِیمان نہ لایا : 16 3
17 پاک سرزمین اَور مولانا جالندھری پر مقدمہ ! : 17 3
18 اِمام اعظم کے بارے میں اِمام مالک کی رائے مبارک : 17 3
19 جھوٹے نبی کا گھڑی دیکھنا ،دماغی مریض کی علامات : 17 3
20 دُوسری علامت : 18 19
21 تیسری علامت : 18 3
22 دیو بند میں مسلمانوں کی آباد کاری اَور فروغ 20 1
23 شیخ علاء الدین سہروردی : 21 22
24 شیخ معز الاسلام : 21 22
25 شاہ ولایت : 21 22
26 ایک اَور بزرگ : 22 22
27 شیخ جیا ،صا حب ِخانقاہ : 22 22
28 شیخ اَبو الوفاء عثمانی : 22 22
29 قاضی فضل اللہ شیر : 23 22
30 شیخ اَبو البرکات : 23 22
31 مولانا فرید الدین : 23 22
32 سیّد حسام الدین : 24 22
33 سیّد حسام الدین : 24 22
34 شاہ محمد فرید : 24 22
35 میاں جی نور علی قطب الوقت : 24 22
36 مُلا شہاب الدین کابلی : 24 22
37 سیّد محمد اِبراہیم : 25 22
38 کچھ اَور بزرگ : 29 22
39 شیخ اَحمد دیبنی : 29 22
40 شاہ رَمزالدین : 29 22
41 دیوبند : زوالِ سلطنت ِمغلیہ کے وقت 30 22
42 جہادِ حضرت سیّد اَحمد شہید قدس سرہ کے رُفقائِ دیوبند : 32 22
43 قسط : ٣٠ اَنفَاسِ قدسیہ 40 1
44 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین اَحمدصاحب مدنی کی خصوصیات 40 43
45 وفیات 47 1
46 قسط : ١٦ پردہ کے اَحکام 48 1
47 پردہ کے تینوں دَرجوں میں ضرورت کے مواقع کا اِستثناء : 48 46
48 تینوںدَرجوں کے اِعتبار سے ضرورت کے مواقع کی تفصیل : 49 46
49 ساری بحث کا خلاصہ : 50 46
50 ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ضروری شرطیں : 51 46
51 قسط : ١٢ سیرت خلفائے راشدین 52 1
52 خلیفہ رسول اللہ حضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ 52 51
53 کرامت : 52 51
54 حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کی معیشت : 53 51
55 قسط : ٩ ، آخري سلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 56 1
56 اِقتصادِ اِسلامی کااِنتظام : 57 55
57 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter