ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012 |
اكستان |
|
تزھو بخضرتھا علی ما تحت الخضراء ۔ وسوداء ھی لاصناف الثمار کالسویداء واما ریاھا فما للارواح الطیبة وایاھا۔ تفوق المسک الاذفر وتزری بالعود و العنبر۔ واما اذواقھا فحلاوتھا احلٰی من الشہد وحموضتھا اشھٰی من تعبُّس الخروب۔ ( اَلْہَدِّیَّةُ السَّنِیَّة ص١٠ مطبوعہ ١٣٠٧ھ ) ''دیوبند ایک قدیم اَور بڑا قصبہ ہے شرفاء کی بستی اَور عظیم الشان شہر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ طوفانِ نوح کی اِبتدائی بستیوں میں سے ہے۔ اِس کی عمارات ومساجد نہایت وسیع اَور بلند واقع ہوئی ہیں۔ (یہاں) آثارِ قدیمہ اَور مزارات ِ اَولیا ء اللہ ہیں اِس کے آثار ِمحمودہ اَور حالات ِ مبارکہ مشہور ہیں۔ اِس میں پختہ اَور مستحکم عمارتیں ہیں اَور اِس کے درختوں میں پھلوں ،تفریح گاہوں، نہروں، حوض اَور باغات، جنگلات (کے ساتھ) خوش منظر جھاڑیاں ہیں، محفوظ مکانات بلند محلات ہیں، یہ شہر خیر سے قریب اَور شر سے دُورہے جیسے اِرشادِ ربانی ہے : بَلْدَ ة طَیِّبَة وَرَبّ غَفُوْر ١ مدرسہ سے اِسے شر ف حاصل ہوا اَور اِسی میں مولانا محمد قاسم رحمة اللہ علیہ مدفون ٢ ہوئے تو نُوْر عَلٰی نُوْرْ ہوگیا۔ ١ بخاری طلبہ جو تحصیل ِعلم کے لیے مدینہ منورہ سے آتے تھے وہاں کے سکون کو دیکھ کر کہتے تھے کہ یہاں مدینہ منورہ کی خوشبو آتی ہے۔ ٢ مجھے جناب حامد حسن صاحب عثمانی دیوبندی مرحوم و مغفور نے جو پٹواری کہلاتے تھے بیان کیا کہ حضرت نانوتوی قدس سرہ کی جب قبر مبارک کھودی گئی تو میں وہاں تھا قبر کے اَندر کی مٹی سے خوشبو آرہی تھی جہاں آپ کا جسم ِخاکی رکھا جانا تھا ،رحمة اللہ علیہ۔ جناب حامد حسن صاحب اگرچہ بعض بدعات کی رُسوم بھی کیا کرتے تھے مگر اُن کو حضرت کی اِس کرامت کی وجہ سے حضرت رحمة اللہ علیہ سے کافی عقیدت تھی۔ جناب حامد حسن صاحب مرحوم نے دَراز عمر پائی۔