ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012 |
اكستان |
|
یا یُغْفَرَلِیْ میں یہ شرط لگانی چاہتاہوں کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں گویاجناب میرے لیے ذمہ داری لے لیں کہ میرے گناہ معاف کردیے جائیں۔ تسلی بخش جواب ،اہم نکتہ سمجھایا : آقائے نامدار ۖ نے اُن کو چند مسائل بتلا ئے قَالَ اَمَا عَلِمْتَ یَاعَمْرُو تمہیں یہ نہیں معلوم اے عمرو اَنَّ الْاِسْلَامَ یَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہ اِسلام جب کوئی قبول کرتا ہے تو جوکچھ پہلے کیا ہوتا ہے سب ختم وَاَنَّ الْہِجْرَةَ تَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہَا ہجرت جو کیا کرتے تھے اَور ہجرت فرض تھی تو ہجرت بھی ایسی ہی چیز تھی جو کچھ پہلے ہوا ہے اللہ معاف فرمائیں گے اَور یہ بھی فرمایا کہ اَنَّ الْحَجَّ یَہْدِمُ مَاکَانَ قَبْلَہ ١ آدمی اگر صحیح طرح ڈرتا ہوا تواضع کرتا ہوا اِستغفار کرتا ہوا حج کے اَرکان اَدا کرتا ہے گناہ سے بچتے ہوئے کرلیتا ہے تو جو اُس سے پہلے ہوئے ہیں گناہ وہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ تو آقائے نامدار ۖ نے فرمایا کہ وہ تو بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کی شرط لگائی جائے تو پھر یہ بیعت ہوگئے۔ آگے حدیث شریف میں سکوت ہے اَور شرف ہی کی چیز ذکر کی جارہی ہے۔بعد میں آقائے نامدار ۖ نے اِن کو بیعت کر لیا۔ لیکن سمجھداری کی بات ہے اَور سمجھداری دین میں بھی کام آتی ہے اَور سمجھداری سے کام کیا جائے تو بہت سا راستہ طے ہوجاتا ہے ایک دَم، دینی اِعتبار سے بھی اِسی طرح ہے جیسے دُنیاوی اِعتبار سے ہے کہ آدمی سوچتا رہتا ہے کہ مقصد کو پہنچنے کا قریبی راستہ قریبی تدبیر کیا ہو سکتی ہے اِسی طرح سے آخرت کا اَور اللہ تعالیٰ کی ذات ِ پاک کا معاملہ بھی ہے کہ اِسلام نے تو بتلادی ہیں تمام چیزیں اَب اِن میں سے اِنتخاب کرنا اَور قریب تر راستہ ڈھونڈھنا یہ آپ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اِسلام پر اِستقامت دے اَور آخرت میں رسول اللہ ۖ کا ساتھ نصیب فرمائے ، آمین ۔ اِختتامی دُعا ............ ١ مشکوہ شریف کتاب الایمان رقم الحدیث ٢٨