ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012 |
اكستان |
|
''زمانہ قدیم میں کورو اَور پانڈو کی وہ عظیم جنگ جو ''مہا بھارت'' کے نام سے موسوم ہے جس میدان میں لڑی گئی اُس کی طویل و عریض حدود میں دیوبند کی سرزمین بھی شامل ہے۔''( ص ٤٥ ) اُس جنگ کا زمانہ ایک ہزار سال مسیح کابنتاہے۔ (حاشیہ تاریخ ِدیوبند ص ٤٨) تاریخ میں دیوبند کا ذکر ''مار کنڈے پُر ان'' میں ملتا ہے جس سے دیوبند کی قدامت ثابت ہے نیز یہ بھی مشہور ہے کہ کورو پانڈو کے عہد ِحکومت میں دیوبند آباد تھا۔ ١ (تاریخ دیوبند ص ٣٣) اِمپیریل گزیٹر میں لکھا ہے : ''پانڈو نے ملک بدر ہونے کی پہلی مدت یہیں گزاری تھی یہاں کا قلعہ سالار مسعود غازی ٢ کے اَوّلین مفتوحہ قلعوں میں سے تھا۔'' (تاریخ ِدیوبند ص٣٤) دیوبند کا محلہ قلعہ غالبًا اِسی حصہ پر آباد ہے وہیں اَب تحصیل کے دفاتر اَور پولیس اسٹیشن ہے۔ اِس کی قدامت کے بارے میں حضرت شیخ الہند کے والد ماجد حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحب رحمة اللہ علیہ اَلْہَدِیَّةُ السَّنِیَّةُ میں حضرت نوح علیہ السلام کے بعد سے اُس کی آبادی اِرشاد فرماتے ہیں۔ ١ ہندو سنسکرتی کاایک کیندر ص٢ شائع کردہ نرائن نندسرستی ۔ (اَز تاریخ ِدیوبند ص ٣٣) ٢ سالار مسعود غازی اَوائل پانچویں صدی ہجری کے ایک اُولوالعزم مجاہد اَور سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے اِن کے والد سالار ساہوکو سلطان محمود نے اَجمیر کی مہم میں فوج کا سالار مقرر کیا تھا۔ سالار مسعود غازی ٤٠٥ھ / ١٠١٤ء میں پیدا ہوئے نوجوانی میں دہلی، میرٹھ، قنوج اَور بہرائچ وغیرہ مقامات کی جنگوں میں نمایاں فتوحات حاصل کیں آخر میں بہرائچ میں مقیم تھے کہ گردو نواح کی ریاستوں نے اِن پر حملہ کیا اِس جنگ میں سالار مسعودغازی نے ١٤ رجب ٤٢٤ھ/ ١٠٣٢ء کو جامِ شہادت نوش کیا، بہرائچ میں اِن کا مزار زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے۔ (تاریخ ِدیوبند ص ٣٣ و ٣٤)