Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012

اكستان

18 - 65
 ''زمانہ قدیم میں کورو اَور پانڈو کی وہ عظیم جنگ جو ''مہا بھارت'' کے نام سے موسوم ہے جس میدان میں لڑی گئی اُس کی طویل و عریض حدود میں دیوبند کی سرزمین بھی شامل ہے۔''( ص ٤٥ )
اُس جنگ کا زمانہ ایک ہزار سال مسیح کابنتاہے۔ (حاشیہ تاریخ ِدیوبند ص ٤٨) 
تاریخ میں دیوبند کا ذکر ''مار کنڈے پُر ان'' میں ملتا ہے جس سے دیوبند کی  قدامت ثابت ہے نیز یہ بھی مشہور ہے کہ کورو پانڈو کے عہد ِحکومت میں دیوبند  آباد تھا۔  ١  (تاریخ دیوبند ص ٣٣) 
اِمپیریل گزیٹر میں لکھا ہے  :
 ''پانڈو نے ملک بدر ہونے کی پہلی مدت یہیں گزاری تھی یہاں کا قلعہ سالار مسعود غازی  ٢  کے اَوّلین مفتوحہ قلعوں میں سے تھا۔'' (تاریخ ِدیوبند ص٣٤) 
دیوبند کا محلہ قلعہ غالبًا اِسی حصہ پر آباد ہے وہیں اَب تحصیل کے دفاتر اَور پولیس اسٹیشن ہے۔ 
اِس کی قدامت کے بارے میں حضرت شیخ الہند کے والد ماجد حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحب رحمة اللہ علیہ  اَلْہَدِیَّةُ السَّنِیَّةُ   میں حضرت نوح علیہ السلام کے بعد سے اُس کی آبادی اِرشاد فرماتے ہیں۔ 
   ١   ہندو سنسکرتی کاایک کیندر ص٢  شائع کردہ نرائن نندسرستی ۔ (اَز تاریخ ِدیوبند ص ٣٣) 
  ٢   سالار مسعود غازی اَوائل پانچویں صدی ہجری کے ایک اُولوالعزم مجاہد اَور سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے اِن کے والد سالار ساہوکو سلطان محمود نے اَجمیر کی مہم میں فوج کا سالار مقرر کیا تھا۔ سالار مسعود غازی ٤٠٥ھ / ١٠١٤ء میں پیدا ہوئے نوجوانی میں دہلی، میرٹھ، قنوج اَور بہرائچ وغیرہ مقامات کی جنگوں میں نمایاں فتوحات حاصل کیں آخر میں بہرائچ میں مقیم تھے کہ گردو نواح کی ریاستوں نے اِن پر حملہ کیا اِس جنگ میں سالار مسعودغازی نے ١٤ رجب ٤٢٤ھ/ ١٠٣٢ء کو جامِ شہادت نوش کیا، بہرائچ میں اِن کا مزار زیارت گاہ ِ خاص و عام ہے۔ (تاریخ ِدیوبند  ص ٣٣  و  ٣٤)

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حر ف اول: 4 1
3 درس حدیث: 11 1
4 عورتوں کی بیعت کا طریقہ : 12 3
5 ''موت پر بیعت ''کا مطلب : 12 3
6 عورتوں کو بیعت کرنے کا طریقہ : 12 3
7 پیر کا غیر عورتوں کو ہاتھ لگانا حرام ہے : 13 3
8 آپ کا دست ِ مبارک بڑھانا اَور اِن کا کھینچنا ،عرب کے چار دَانا : 14 3
9 گوریلہ جنگ کے ماہر : 14 3
10 تسلی بخش جواب ،اہم نکتہ سمجھایا : 15 3
11 قسط : ٢٩اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
12 قسط : ١٥ پردہ کے اَحکام 29 1
13 فتنہ کس عورت میں ہے اَور کس میں نہیں : 29 12
14 خلاصہ کلام : 30 12
15 قسط : ١١ سیرت خلفائے راشدین 31 1
16 فتوحِ عراق و شام : 31 15
17 قسط : ٨اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 34 1
18 اِسلامی صکوک پر چو تھا تحفظ : لائی بور کی شرح یا متوقع نفع 35 17
19 ہم کہتے ہیں : 35 17
20 جب مدیر مضارب بن کر عہد کرے : 39 17
21 شریک کی جانب سے عہد : 40 17
22 وکیل ِ اِستثمار کی جانب سے عہد : 42 17
23 توہین ِرسالت دہشت گردی ہے ! 44 1
24 ''دہشت گردی'' کی تعریف : 44 23
25 حضور ۖ کی توہین کرنے والا دہشت گرد ہے : 46 23
26 خلاصہ : 47 25
27 مسلمان سربراہوں سے دَرخواست : 47 25
28 قانون ِ تحفظ ناموس ِ رسالت ۖ : 48 25
29 شاہ شمس سبزواری : ایک تحقیق ، ایک تجزیہ 50 1
30 پس منظر : 50 29
31 اِسماعیلی داعیوں کی ہندوستان آمد : 52 29
32 شاہ شمس سبزواری : 53 29
33 شاہ شمس سبزواری یا شمس تبریزی ؟ 54 29
34 تبلیغی حکمت ِعملی : 55 29
35 گِنان : 55 29
36 وفات : 56 29
37 شاہ شمس سبزواری کے بارے میں ایک اِستفتاء اَور اُس کا جواب : 62 29
38 وفیات 63 1
39 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter