Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012

اكستان

17 - 65
کوہ ہمالیہ  ١  کے قریب سہارنپور  ٢  واقع ہے اِس کے مشرق میں بجنور مغرب میں ضلع کرنال اَور جنوب میں مظفر نگر ہے۔ 
یہ ضلع علاقہ دوآبہ میں واقع ہے اِس کے مشرق میں دَریائے گنگا اَور مغرب میں دَریائے جمنا ہے۔ اِن دونوں دَریاؤں کے درمیان جوشہر ہیں وہ علاقہ دوآبہ میں واقع کہلاتے ہیں۔ 
دارُالعلوم کی رُوداد  ١٣٠١ھ  میں تحریر ہے  :
''یہ قصبہ ہمیشہ سے اپنے گردو نواح کے جملہ مقامات اَور دیہات میں آب و ہوا کی عمدگی اَور خوبی میں مشہور ہے اَلبتہ نہر کے جاری ہونے کے بعد سے آب و ہوا میں سابقہ اِعتدال باقی نہیں رہا۔ دیوبند سہارنپور اَور دہلی کے درمیان دہلی سے جانبِ شمال تقریبًا نوے میل دُور( ١٤٤ کلو میٹر )اَور سہانپور سے بیس میل جانب جنوب واقع ہے۔'' 
صاحب ِتاریخ ِدیوبند تحریر فرماتے ہیں کہ
(بقیہ حاشیہ ص١٥ )میں نے اَپنے رشتہ داروں سے ''دیوی بن'' نام بھی سنا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اِس کا مسجّع ومقفٰی نام یہ ہے'' دیوی بن برلب ِدَریائے گنگ'' ہو سکتا ہے کہ قدیم زمانہ میں جہاں آبادی ہوگی اُس کے قریب سے دَریائے گنگا تک کوئی بن ہو۔ وہ حضرات یہ بھی فرماتے تھے کہ پہلے دَریا قریب بہتاتھا پھر دُور ہٹ گیا اَور راستہ بد ل لیا، واللہ اعلم۔ حامد میاں غفرلہ 
   ١  بحوالہ ''شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمة اللہ علیہ '' اَز اِقبال حسن خاں پی ایچ ڈی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ  (اِقبال خاں نے شیخ الہند پرمسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ ڈی کیا ہے)  و  تاریخ ِدیوبند مصنفہ سیّد محبوب رضوی طبع دوم مطبوعہ آزاد پریس دیوبند شائع کردہ علمی مرکز دیوبند۔ 
  ٢   ٧٢٦ھ/ ١٣٦٤ء میں بعہد غیاث الدین تغلق ایک بزرگ شاہ ہارو ن چشتی   کے قیام سے سہارنپور کی آبادی کا آغاز ہوا چنانچہ اِبتداء ً شاہ ہارون پور کے نام سے موسوم رہا پھر کثرتِ اِستعمال سے سہارنپور ہو گیا   ''شہر پرزیب''اِس کا تاریخی نام ہے ۔(بحوالہ جغرافیہ سہارنپور ص ٩ مطبوعہ ١٨٦٨ء اَز تاریخ ِدیوبند ص ٤٣) 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حر ف اول: 4 1
3 درس حدیث: 11 1
4 عورتوں کی بیعت کا طریقہ : 12 3
5 ''موت پر بیعت ''کا مطلب : 12 3
6 عورتوں کو بیعت کرنے کا طریقہ : 12 3
7 پیر کا غیر عورتوں کو ہاتھ لگانا حرام ہے : 13 3
8 آپ کا دست ِ مبارک بڑھانا اَور اِن کا کھینچنا ،عرب کے چار دَانا : 14 3
9 گوریلہ جنگ کے ماہر : 14 3
10 تسلی بخش جواب ،اہم نکتہ سمجھایا : 15 3
11 قسط : ٢٩اَنفَاسِ قدسیہ 26 1
12 قسط : ١٥ پردہ کے اَحکام 29 1
13 فتنہ کس عورت میں ہے اَور کس میں نہیں : 29 12
14 خلاصہ کلام : 30 12
15 قسط : ١١ سیرت خلفائے راشدین 31 1
16 فتوحِ عراق و شام : 31 15
17 قسط : ٨اِسلامی صکوک (SUKUK) : تعارف اَورتحفظات 34 1
18 اِسلامی صکوک پر چو تھا تحفظ : لائی بور کی شرح یا متوقع نفع 35 17
19 ہم کہتے ہیں : 35 17
20 جب مدیر مضارب بن کر عہد کرے : 39 17
21 شریک کی جانب سے عہد : 40 17
22 وکیل ِ اِستثمار کی جانب سے عہد : 42 17
23 توہین ِرسالت دہشت گردی ہے ! 44 1
24 ''دہشت گردی'' کی تعریف : 44 23
25 حضور ۖ کی توہین کرنے والا دہشت گرد ہے : 46 23
26 خلاصہ : 47 25
27 مسلمان سربراہوں سے دَرخواست : 47 25
28 قانون ِ تحفظ ناموس ِ رسالت ۖ : 48 25
29 شاہ شمس سبزواری : ایک تحقیق ، ایک تجزیہ 50 1
30 پس منظر : 50 29
31 اِسماعیلی داعیوں کی ہندوستان آمد : 52 29
32 شاہ شمس سبزواری : 53 29
33 شاہ شمس سبزواری یا شمس تبریزی ؟ 54 29
34 تبلیغی حکمت ِعملی : 55 29
35 گِنان : 55 29
36 وفات : 56 29
37 شاہ شمس سبزواری کے بارے میں ایک اِستفتاء اَور اُس کا جواب : 62 29
38 وفیات 63 1
39 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter