ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2012 |
اكستان |
|
کوہ ہمالیہ ١ کے قریب سہارنپور ٢ واقع ہے اِس کے مشرق میں بجنور مغرب میں ضلع کرنال اَور جنوب میں مظفر نگر ہے۔ یہ ضلع علاقہ دوآبہ میں واقع ہے اِس کے مشرق میں دَریائے گنگا اَور مغرب میں دَریائے جمنا ہے۔ اِن دونوں دَریاؤں کے درمیان جوشہر ہیں وہ علاقہ دوآبہ میں واقع کہلاتے ہیں۔ دارُالعلوم کی رُوداد ١٣٠١ھ میں تحریر ہے : ''یہ قصبہ ہمیشہ سے اپنے گردو نواح کے جملہ مقامات اَور دیہات میں آب و ہوا کی عمدگی اَور خوبی میں مشہور ہے اَلبتہ نہر کے جاری ہونے کے بعد سے آب و ہوا میں سابقہ اِعتدال باقی نہیں رہا۔ دیوبند سہارنپور اَور دہلی کے درمیان دہلی سے جانبِ شمال تقریبًا نوے میل دُور( ١٤٤ کلو میٹر )اَور سہانپور سے بیس میل جانب جنوب واقع ہے۔'' صاحب ِتاریخ ِدیوبند تحریر فرماتے ہیں کہ (بقیہ حاشیہ ص١٥ )میں نے اَپنے رشتہ داروں سے ''دیوی بن'' نام بھی سنا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اِس کا مسجّع ومقفٰی نام یہ ہے'' دیوی بن برلب ِدَریائے گنگ'' ہو سکتا ہے کہ قدیم زمانہ میں جہاں آبادی ہوگی اُس کے قریب سے دَریائے گنگا تک کوئی بن ہو۔ وہ حضرات یہ بھی فرماتے تھے کہ پہلے دَریا قریب بہتاتھا پھر دُور ہٹ گیا اَور راستہ بد ل لیا، واللہ اعلم۔ حامد میاں غفرلہ ١ بحوالہ ''شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمة اللہ علیہ '' اَز اِقبال حسن خاں پی ایچ ڈی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (اِقبال خاں نے شیخ الہند پرمسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ ڈی کیا ہے) و تاریخ ِدیوبند مصنفہ سیّد محبوب رضوی طبع دوم مطبوعہ آزاد پریس دیوبند شائع کردہ علمی مرکز دیوبند۔ ٢ ٧٢٦ھ/ ١٣٦٤ء میں بعہد غیاث الدین تغلق ایک بزرگ شاہ ہارو ن چشتی کے قیام سے سہارنپور کی آبادی کا آغاز ہوا چنانچہ اِبتداء ً شاہ ہارون پور کے نام سے موسوم رہا پھر کثرتِ اِستعمال سے سہارنپور ہو گیا ''شہر پرزیب''اِس کا تاریخی نام ہے ۔(بحوالہ جغرافیہ سہارنپور ص ٩ مطبوعہ ١٨٦٨ء اَز تاریخ ِدیوبند ص ٤٣)