ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
¾اكستان Ù |
|
تصنیف و تالیف : اللہ تعالیٰ نے حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کو تصنیف و تالیف کا ملکہ بھی عطاء فرمایا۔ پچاس کے قریب چھوٹی بڑی کتابیں آپ کے قلمِ حقیقت رقم سے نکل کر مقبولِ عوام و خواص ہو چکی ہیں۔ آپ کی تصانیف مختلف موضوعات سے متعلق ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ موضوعات کے نام نذرِ قارئین کیے جائیں ملاحظہ فرمائیں : (١)قرآنیات(٢)حدیثیات(٣)اَرکانِ اِسلام(٤) سیرت و سوانح (٥)تاریخ و تذکرہ (٦)فضائل(٧)حقوق (٨)عمومی دینیات اَوصاف و خصائل : اللہ تعالیٰ نے حضرت قاری صاحب کو ایسے اَوصاف و اِمتیازات سے نوازا تھا جو خال خال ہی کسی کو نصیب ہوتے ہیں۔ مجھ جیسا کم سوادوکم علم اِس بارے میں کیا تحریر کر سکتا ہے۔ سادگی و تواضع اَور عاجزی و اِنکساری نے آپ کی شخصیت پر ایسا پردہ ڈال رکھا تھا کہ عوام تو عوام خواص بھی آپ کے مرتبہ و مقام کاصحیح اَندازہ نہ لگا سکے۔ تقویٰ و طہارت، خلوص و للہیت کے پیکرتھے، اَکابر اہلِ سنت کے ترجمان اَور اَکابر علمائِ دیوبند کے علوم کے وارِث و اَمین اَور نمونۂ اَسلاف تھے۔محبت رسول اللہ ۖ اَور اِتباعِ سنت میںکمال درجہ کے حامل تھے ،خوش مزاجی ،ظرافت اَور وضع داری آپ کی طبیعت ِثانیہ تھے پیرانہ سالی کے باوجود مزاج میںخشکی اَور چڑچڑا پن نہیں تھابلکہ طبیعت شگفتہ اَور مزاج اِنتہائی خوشگوار رہتا تھا،ہر ایک کے ساتھ اُس کے درجہ اَور مرتبہ کے مطابق سلوک فرماتے تھے،علاوہ اَزیں سینکڑوں خوبیوں کے مالک تھے۔ حضرت مولانا سیّد حامدمیاںصاحب کے خلیفہ حضرت حاجی محمود احمد صاحب نے جامعہ مدنیہ سے متعلق اپنی ایک نظم میں حضرت قاری صاحب کی نذر چنداَشعار کیے ہیں،ملاحظہ فرمائیں : ہیں شریف احمد کریم النفس مردِ بے نظیر عالمِ دینِ مبیں ہیں صاحبِ روشن ضمیر جامعہ کے ساتھ اِن کو ہے دِلی وابستگی شغل ہے تعلیمِ دیں ، تعلیم بھی قرآن کی کیا کہوں میں اِن کے اَخلاقِ کریمانہ کی باتد ین و دَانش سے مزین ذات اِن کی پُر صفات