Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011

¾اكستان Ù

52 - 64
سلوک و احسان  :  حضرت قاری صاحب نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب  مدنی رحمہ اللہ(م:١٣٧٧ھ / ١٩٥٧ئ) سے ١٣٥٧ھ میں بیعت کا تعلق قائم فرمایا ۔قیام پاکستان سے قبل   براہِ راست آستانہ ٔمدنی پر حاضری دیتے اَور فیوضاتِ مدنی سے فیض یاب ہوتے رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد خط و کتابت کے ذریعہ فیض یاب ہوتے رہے۔ شیخ الاسلام حضرت مدنی  کی وفات کے بعد حضرت مولانا سیّد اَسعد صاحب مدنی   (م: ١٤٢٧ھ /٢٠٠٦ئ)کے مشورہ سے بانی جامعہ مدنیہ حضرت مولاناسیّد حامد میاں صاحب قدس سرہ'(م: ١٤٠٨ھ / ١٩٨٨ئ) سے اِصلاحی تعلق قائم فرما لیا۔ حضرت مولانا سیّد حامد میاں صاحب حضرت مدنی رحمہ اللہ کے خاص شاگرد اَور خلفاء میںممتاز و نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔ حضرت سیّد صاحب نے حضرت قاری صاحب کو١٣ شوال المکرم ١٣٨٢ھ / ١٠ مارچ ١٩٦٣ء کودرجِ ذیل خط لکھ کر خلافت و اِجازت سے سرفراز فرمایا  : 
''میں آپ کو طرق اَربعہ معروفہ کی اِجازت دیتا ہوں، اَللہ تعالیٰ مبارک فرمائیں اَور فیض جاری فرمائیں۔ اللہ آپ کو اَور ہمیں حسنِ خاتمہ کی دولت سے نوازیں۔''
جامعہ تعلیم القرآن شریفیہ : حضرت قاری صاحب کے حفظ کے اُستاذ حضرت حافظ رحمت اللہ صاحب کیرانوی اَور تجوید کے اُستاذ حضرت مولانا قاری عبدالمالک صاحب نے آپ کو نصیحت فرمائی تھی کہ''قرآن پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھنا''اَساتذۂ کرام کی اِس نصیحت و وصیت پر عمل کرتے ہوئے آپ نے قرآنِ پاک پڑھانے کو وظیفۂ حیات بنا لیا۔ اَولاً دہلی میں مسجدحوض والی نئی سڑک میں ربیع الثانی ١٣٥٨ھ / ١٩٣٩ء مدرسہ قائم فرمایا ۔قیامِ پاکستان تک یہ مدرسہ اِسی مسجد میں چلتا رہا۔قیام پاکستان کے بعد کراچی تشریف لے آئے اَور دکھنی مسجد پاکستان چوک میں مدرسہ قائم فرمایا۔١٠ محرم الحرام ١٤١٠ھ /١٣ اگست ١٩٨٩ء تک یہ مدرسہ دکھنی مسجد میں رہا۔  ١١ محرم الحرام ١٤١٠ھ /١٤ اگست ١٩٨٩ء میں یہ مدرسہ فیروز مینشن پاکستان چوک میں منتقل ہو گیا۔ رجب ١٤١٥ھ / دسمبر ١٩٩٤ء میں ''قرآن منزل '' جامعہ تعلیم القرآن شریفیہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے مستقل جگہ کا اِنتظام کرا دیا۔اللہ کے فضل و کرم سے حضرت مولانا سیّد اَرشد صاحب مدنی  مدظلہم نے اِس جگہ کا سنگ ِبنیاد رکھا اَور اَب یہ مدرسہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اَور حضرت قاری صاحب  کے لیے بہترین صدقہ ٔجاریہ ہے۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حديث 6 1
4 مسلمان بادشاہ کا ظلم پھر کفار کا اِن پر غلبہ : 7 3
5 منکرین ِ حدیث کے فرضی اَور بے جان اعتراضات : 7 3
6 فقہ بہت پہلے مدّون ہو چکی تھی : 8 3
7 شیعیت کا اَثر و رُسوخ بہت بعد میں ہوا : 9 3
8 عقلی دلیل اَور مشاہدہ : 9 3
9 شیعیت کی دخل اَندازی سے اَحادیث پاک ہیں : 10 3
10 مظلوم کا مسلمانوں کے معبود کی طرف رُجوع اَور غیبی تائید : 10 3
11 حضرت اِمام رازی کے ساتھ اِن کا سلوک : 11 3
12 نبی علیہ السلام کو رُعب عطا کیا گیا اِس سے آپ نے اِنصاف پھیلایا : 11 3
13 منگولیوں کے جنرل کا حال : 12 3
14 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٣ (قسط : ٥،آخری) 14 1
15 مسئلہ رجم 14 14
16 متفرق مسائل : 14 14
17 شرعی کوڑے : 17 14
18 تابعین کا عمل : 21 14
19 تابعین کا عمل : 21 14
20 اَنفَاسِ قدسیہ 24 1
21 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 20
22 مخالفین کے ساتھ : 24 20
23 جنات کے ساتھ : 25 20
24 اِکرامِ ضَیف : 26 20
25 کمیونسٹ لیڈر ڈاکٹر محمد اَشرف صاحب تحریر فرماتے ہیں : 28 20
26 حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب رحمة اللہ علیہ 30 1
27 ولی را ولی می شناسد 35 26
28 تربیت ِ اَولاد 36 1
29 اَولاد کی اِصلاح کے لیے صحبت ِصالح کی ضرورت : 36 28
30 شفقت کے مقتضی اَور بیٹے کو نصیحت کرنے کا طریقہ : 36 28
31 اَولاد کی پرورش کرنے اَور نان ونفقہ دینے کا شرعی ضابطہ : 37 28
32 لڑکے اَورلڑکی کی شادی کر نابا پ کے ذمہ واجب ہے یا نہیں تا خیر کرنے سے کتنا گنا ہ ہو گا : 38 28
33 اَب رہ گئی حدیث تو مشکوة شریف باب تعجیل الصلوة میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : 38 28
34 وفیات 39 1
35 قسط : ٥ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 40 1
36 آپ نے خلافت فوج کی کمزوری سے چھوڑی یامسلمانوں کی خونریزی سے بچنے کے لیے : 40 35
37 تحفظ ناموسِ رسالت محاذ پر جدو جہد اَور شاندار کامیابی 43 1
38 عاشقِ قرآن حضرت مولاناقاری شریف احمدصاحب 49 1
39 تشدد سے پاک پاکستان ....... تصویر کا دُوسرا رُخ 55 1
40 دینی مسائل 60 1
41 ( وقف کا بیان ) 60 40
42 حق ِقرارسے کیامراد ہے : 60 40
43 وقف کو غصب کرنا : 60 40
44 وقف کو تبدیل کرنا : 61 40
45 وقف کے منافع وقف نہیں ہوتے : 61 40
46 واقف کاتاحیات جائداد کی آمدنی اپنے لیے مقرر کرنا : 62 40
47 کسی جائیداد یا اُس کی آمدنی کو اپنی اَولاد پر وقف کرنا : 62 40
48 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter