ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
¾اكستان Ù |
|
فنِ تجوید کی تکمیل : دورئہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ جا کر شیخ القراء حضرت مولانا قاری عبدالمالک صاحب سے فنِ تجوید کی تکمیل کی۔ حضرت قاری عبدالمالک صاحب رحمہ اللہ نے ١٢ ربیع الاوّل ١٣٥٨ھ/ ١٩٣٩ء میں آپ کو سند عطا فرمائی۔ فنِ خوش نویسی : حضرت قاری صاحب نے فنِ خوش نویسی بھی حاصل کیا۔ آپ کا خط نہایت عمدہ تھااَوروفات تک خط کی عمدگی باقی رہی۔ شادی خانہ آبادی : ١٩٤٤ء کے لگ بھگ آپ رشتہ ٔاِزدواج میں منسلک ہوئے۔ حضرت قاری صاحب کی اہلیہ محترمہ آٹھ سال شدید بیمار رہنے کے بعد ١٤ رمضان المبارک ١٣٨٦ھ/ ٢٧ دسمبر ١٩٦٦ء کو رات ساڑھے بارہ بجے اِس دار فانی سے دارِ باقی کو رِحلت فرما گئیں۔ اگلے روز حضرت مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اَورقبرستان میوہ شاہ میں'' اَنجمن مسلمانانِ پنجاب ''کے احاطہ میں تدفین ہوئی۔ اَولاد و اَحفاد : آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین صاحبزادیاں اَور دو صاحبزادے عطا ء فرمائے جن میں سے حافظ رشید اَحمد صاحب حفظہ اللہ کے علاوہ سب عہد ِطفولیت ہی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حافظ رشید احمد صاحب کے ذریعہ آپ کے سلسلۂ نسب کو چلایا۔ آپ کے یہاںدو صاحبزادیاں اَور پانچ صاحبزادے پیدا ہوئے جن میں سے ایک صاحبزادے حافظ منیر اَحمد کا اِنتقال ہو چکا ہے۔ سب سے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا تنویر اَحمد صاحب شریفی مد ظلہم ہیں جو حضرت قاری صاحب کی خاص توجہ کا مرکز رہے۔ آپ فاضل ِدرسِ نظامی ہیں، ماشاء اللہ ذِی علم اَور ذِی اِستعداد ہیں۔ قاری صاحب کی حیات ہی سے مسجد سٹی سٹیشن اَور جامعہ تعلیم القرآن شریفیہ کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہیں اَورعمدگی کے ساتھ اِسے چلا رہے ہیں حضرت قاری صاحب آپ سے مطمئن اَور خوش تھے۔ حضرت قاری صاحب مولانا تنویر احمد صاحب شریفی کے یہاں ہی قیام فرما تھے۔ مولانا تنویر احمد صاحب نے سعادت مند پوتے ہونے کاپورا ثبوت دیا حضرت قاری صاحب کے ہرطرح کے راحت وآرام کا خیال رکھا ، حضرت قاری صاحب اِس پر بہت خوشی کا اِظہار فرمایا کرتے تھے۔