Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011

¾اكستان Ù

51 - 64
فنِ تجوید کی تکمیل :  دورئہ حدیث شریف سے فراغت کے بعد مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ جا کر شیخ القراء حضرت مولانا قاری عبدالمالک صاحب سے فنِ تجوید کی تکمیل کی۔ حضرت قاری عبدالمالک صاحب رحمہ اللہ نے ١٢ ربیع الاوّل ١٣٥٨ھ/ ١٩٣٩ء میں آپ کو سند عطا فرمائی۔ 
فنِ خوش نویسی  :  حضرت قاری صاحب نے فنِ خوش نویسی بھی حاصل کیا۔ آپ کا خط نہایت عمدہ تھااَوروفات تک خط کی عمدگی باقی رہی۔
شادی خانہ آبادی  :  ١٩٤٤ء کے لگ بھگ آپ رشتہ ٔاِزدواج میں منسلک ہوئے۔ حضرت قاری صاحب کی اہلیہ محترمہ آٹھ سال شدید بیمار رہنے کے بعد ١٤ رمضان المبارک ١٣٨٦ھ/ ٢٧  دسمبر ١٩٦٦ء کو رات ساڑھے بارہ بجے اِس دار فانی سے دارِ باقی کو رِحلت فرما گئیں۔ اگلے روز حضرت مولانا احتشام الحق صاحب تھانوی نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اَورقبرستان میوہ شاہ میں'' اَنجمن مسلمانانِ پنجاب ''کے احاطہ میں تدفین ہوئی۔ 
اَولاد و اَحفاد  :  آپ کو اللہ تعالیٰ نے تین صاحبزادیاں اَور دو صاحبزادے عطا ء فرمائے جن میں سے حافظ رشید اَحمد صاحب حفظہ اللہ کے علاوہ سب عہد ِطفولیت ہی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حافظ رشید احمد صاحب کے ذریعہ آپ کے سلسلۂ نسب کو چلایا۔ آپ کے یہاںدو صاحبزادیاں اَور پانچ صاحبزادے پیدا ہوئے جن میں سے ایک صاحبزادے حافظ منیر اَحمد کا اِنتقال ہو چکا ہے۔ سب سے بڑے صاحبزادے حضرت مولانا تنویر اَحمد صاحب شریفی مد ظلہم ہیں جو حضرت قاری صاحب کی خاص توجہ کا مرکز رہے۔ آپ فاضل ِدرسِ نظامی ہیں، ماشاء اللہ ذِی علم اَور ذِی اِستعداد ہیں۔ قاری صاحب کی حیات ہی سے مسجد سٹی سٹیشن اَور جامعہ تعلیم القرآن شریفیہ کا نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہیں اَورعمدگی کے ساتھ اِسے چلا رہے ہیں حضرت قاری صاحب   آپ سے مطمئن اَور خوش تھے۔ حضرت قاری صاحب مولانا تنویر احمد صاحب شریفی کے یہاں ہی قیام فرما تھے۔ مولانا تنویر احمد صاحب نے سعادت مند پوتے ہونے کاپورا ثبوت دیا حضرت قاری صاحب کے ہرطرح کے راحت وآرام کا خیال رکھا ، حضرت قاری صاحب اِس پر بہت خوشی کا اِظہار فرمایا کرتے تھے۔ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حديث 6 1
4 مسلمان بادشاہ کا ظلم پھر کفار کا اِن پر غلبہ : 7 3
5 منکرین ِ حدیث کے فرضی اَور بے جان اعتراضات : 7 3
6 فقہ بہت پہلے مدّون ہو چکی تھی : 8 3
7 شیعیت کا اَثر و رُسوخ بہت بعد میں ہوا : 9 3
8 عقلی دلیل اَور مشاہدہ : 9 3
9 شیعیت کی دخل اَندازی سے اَحادیث پاک ہیں : 10 3
10 مظلوم کا مسلمانوں کے معبود کی طرف رُجوع اَور غیبی تائید : 10 3
11 حضرت اِمام رازی کے ساتھ اِن کا سلوک : 11 3
12 نبی علیہ السلام کو رُعب عطا کیا گیا اِس سے آپ نے اِنصاف پھیلایا : 11 3
13 منگولیوں کے جنرل کا حال : 12 3
14 علمی مضامین سلسلہ نمبر٤٣ (قسط : ٥،آخری) 14 1
15 مسئلہ رجم 14 14
16 متفرق مسائل : 14 14
17 شرعی کوڑے : 17 14
18 تابعین کا عمل : 21 14
19 تابعین کا عمل : 21 14
20 اَنفَاسِ قدسیہ 24 1
21 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 24 20
22 مخالفین کے ساتھ : 24 20
23 جنات کے ساتھ : 25 20
24 اِکرامِ ضَیف : 26 20
25 کمیونسٹ لیڈر ڈاکٹر محمد اَشرف صاحب تحریر فرماتے ہیں : 28 20
26 حضرت مولانا قاری شریف اَحمد صاحب رحمة اللہ علیہ 30 1
27 ولی را ولی می شناسد 35 26
28 تربیت ِ اَولاد 36 1
29 اَولاد کی اِصلاح کے لیے صحبت ِصالح کی ضرورت : 36 28
30 شفقت کے مقتضی اَور بیٹے کو نصیحت کرنے کا طریقہ : 36 28
31 اَولاد کی پرورش کرنے اَور نان ونفقہ دینے کا شرعی ضابطہ : 37 28
32 لڑکے اَورلڑکی کی شادی کر نابا پ کے ذمہ واجب ہے یا نہیں تا خیر کرنے سے کتنا گنا ہ ہو گا : 38 28
33 اَب رہ گئی حدیث تو مشکوة شریف باب تعجیل الصلوة میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : 38 28
34 وفیات 39 1
35 قسط : ٥ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 40 1
36 آپ نے خلافت فوج کی کمزوری سے چھوڑی یامسلمانوں کی خونریزی سے بچنے کے لیے : 40 35
37 تحفظ ناموسِ رسالت محاذ پر جدو جہد اَور شاندار کامیابی 43 1
38 عاشقِ قرآن حضرت مولاناقاری شریف احمدصاحب 49 1
39 تشدد سے پاک پاکستان ....... تصویر کا دُوسرا رُخ 55 1
40 دینی مسائل 60 1
41 ( وقف کا بیان ) 60 40
42 حق ِقرارسے کیامراد ہے : 60 40
43 وقف کو غصب کرنا : 60 40
44 وقف کو تبدیل کرنا : 61 40
45 وقف کے منافع وقف نہیں ہوتے : 61 40
46 واقف کاتاحیات جائداد کی آمدنی اپنے لیے مقرر کرنا : 62 40
47 کسی جائیداد یا اُس کی آمدنی کو اپنی اَولاد پر وقف کرنا : 62 40
48 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter