ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
اكستان |
|
درست فیصلے اَور صحیح نتیجہ تک پہنچانے کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوششیں جاری رکھیں۔ یوں تو ہر اہم شخصیت اَور جماعت نے اِس مبارک تحریک میں بھر پور اَنداز سے حصہ لیا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں خصوصیت کے ساتھ مولانا فضل الرحمن صاحب کی کاوِشوں کا ذکر نہ کرنا یقینا نااِنصافی ہوگی اُنہوں نے اِس تحریک میں بہت ہی فعال، موثر اَور نتیجہ خیز کردار اَدا کیا۔ اپنے کئی بیرونی اَسفار ملتوی کیے۔ حکومت کے ساتھ محاذ آرائی، جدائی اَور ڈیڈ لاک کے باوجود وہ ناموسِ رسالت کے معاملے میں اہم حکومتی شخصیات کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اَور اُنہیں قائل کرنے اَور صحیح فیصلہ کرنے پر اَمادہ کرنے میں بِلاشبہ مولانا نے کلیدی کردار اَدا کیا۔ تین ماہ کی اَنتھک جدّ وجہد کے بعد بالآخر حکومت کی طرف سے پوری قوم بالخصوص تحریک ِناموسِ رسالت کے قائدین کے مطالبات کی روشنی میں مبنی برحقیقت مؤقف کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا۔ اِس کی سبیل کچھ یوں بنی کہ قانونِ ناموسِ رسالت کے حوالے سے شروع ہونیوالے جملہ اُمور کے سلسلے میں حکومت نے وفاقی وزارتِ قانون سے مشاورت طلب کی۔ وفاقی وزارتِ قانون کی طرف سے ناموسِ رسالت کے معاملے میں قرآن و سنت ،تاریخی حوالوں، عالمی قوانین وغیرہ کی روشنی میں ایک جامع، پُر مغز، دلائل سے مزین اَور مبنی برحق سفارشات پر مشتمل دَستاویز وزیر اعظم اَور دیگر اَربابِ حل و عقدکی خدمت میں پیش کی گئی (اِس ستاویز پر اَگلے کالم میں گفتگو کی جائے گی، اِنشاء اللہ) اُس کی روشنی میں عزت مآب وزیر اعظم اِسلامی جمہوریہ پاکستان نے جو تحریری آرڈر جاری کیا اُس کے بارے میں اُنہوں نے نہ صرف یہ کہ فون کر کے راقم الحروف کو آگاہ کیا بلکہ فوری طورپر اِس آرڈر کی کاپی فیکس بھی کروائی جس میں لکھا گیا تھا کہ : ''وزیر اعظم پاکستان نے وزیر قانون و اِنصاف وپارلیمانی اُمور کی تجاویز کی بخوشی منظور دے دی ہے ........... تمام متعلقہ وزارتوں کو ضروری اِقدامات کی ہدایات کی جاتی ہے ......... منظور شدہ تجاویز کی کاپی اَلگ سے اِرسال ہے۔ '' اِس کے بعد وزیر اعظم نے نہ صرف یہ کہ اسمبلی فلور پر پالیسی بیان میں اِعلان کیا کہ : ''حکومت ناموسِ رسالت قانون میں کسی قسم کی ترمیم و تحریف کاکوئی اِرادہ نہیں رکھتی''بلکہ اُنہوں نے اپنی پارٹی کی خاتون رُکن کو بھی اِس قانون کے حوالے سے ترمیمی بِل واپس لینے کا حکم دے دیا جس پر مذکورہ خاتون نے اپنا بِل