ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
اكستان |
|
وزیراعظم اِسمبلی فلور پر پالیسی بیان دیں اَور باضابطہ طورپر یہ اعلان کیا جائے کہ اِس قانون میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جارہی۔ دُوسرا مطالبہ یہ تھا کہ حکومتی خاتون رُکن اسمبلی کی طرف سے تیار کیا گیا ترمیمی بِل غیر مشروط طور پر واپس لیا جائے۔ اَور تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ وفاقی وزیر اَقلیتی اُمور شہباز بھٹی کی سربراہی میں بننے والی اِس مبینہ کمیٹی کو تحلیل کیاجائے جس کو قانونِ ناموسِ رسالت پر ''نظرثانی'' کاٹاسک دیا گیا تھا۔ اِن تینوں مطالبات کو منوانے کے لیے عوامی سطح پر احتجاجی تحریک جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم نے مختلف محاذوں پر کام جاری رکھا۔ اِس تحریک کے دوران جو چیز سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھی وہ یہ کہ مختلف مکاتب ِفکر کے رہنماؤں کے مابین اِتحاد واِتفاق کی فضاء برقرا ررہے اَور ناموسِ رسالت قانون کے خاتمے کے لیے سرگرمِ عمل اَندرون و بیرون ملک موجود قوتوں کو یہ بتایا جائے کہ ناموسِ رسالت کے معاملے میں تمام لوگ متحد و متفق ہیں۔ اِس حوالے سے ہم نے اِیثار سے بھی کام لیا اَور اِحتیاط سے بھی۔ جہاں کہیں دو مکاتب ِفکر یا دو جماعتوں کے درمیان کسی قسم کی دُوریوں کا یا غلط فہمی کی اِطلاع ملی اُس کے تدارک کی کوشش بھی کی اَور صلح صفائی کا اہتمام بھی کیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ میڈیا مہم میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیا رائے عامہ پر اَثر اَنداز ہونے والی اہم شخصیات سے اِنفرادی اَور اِجتماعی ملاقاتیں کر کے اُنہیں اِس معاملے کی حساسیت ونزاکت سے آگاہ کرنے کی کوشش کی اَور قرآن و سنت کی روشنی میں اُن کی ذہن سازی کا اہتمام بھی کیا۔ وفاق المدارس کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے مدارس کے اَساتذہ و طلباء ،وفاق المدارس کے فضلاء اَور اَئمہ و خطباء نے ملک بھر میں منعقد ہونے والی ریلیوں ،کانفرنسوں، جلسوں اَور مظاہروں کی بھرپور کامیابی میں کلیدی کردار اَدا کیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک اہم محاذ جسے ہمارے اَکابر کبھی بھی نظر اَنداز نہیں کرتے تھے، اِس پر بھی ٹوٹی پھوٹی محنت کی کوشش کی اَور وہ تھا اہم حکومتی شخصیات، پالیسی سازوں اَور اَرکانِ پارلیمنٹ و سینٹ کے ساتھ رابطہ کاری کا محاذ۔ وزیر اعظم پاکستان سمیت ملک بھر کے اہم اَور کلیدی عہدوں پر فائز شخصیات کے ساتھ اِس تحریک کے دوران مسلسل رابطہ رہا اَور اُنہیں اِس اہم ترین معاملے میں قرآن و سنت، دلائل و منطق اَور ملکی مفادات و ترجیحات کی روشنی میں