ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2011 |
اكستان |
|
کے خاتمے کے لیے اِس وقت کس حدتک جا سکتی ہے کیونکہ اِس لابی کے خیال میں اِس قانون پر آخری اَور کاری ضرب لگانے کے لیے یہ ایک آئیڈل موقع تھااَور وہ اِس طرح کہ ایک طرف پنجاب میں سب سے اہم آئینی عہدہ سلمان تاثیر کے پاس تھا جو اِس لابی کے پرانے مہربان بلکہ رہنما سمجھے جاتے تھے، دُوسری طرف پیپلزپارٹی اِقتدار میں تھی اَور اِس پارٹی سے ہمیشہ سیکولر اِنتہا پسند بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔اُدھر عالمی سطح پر بھی اِس معاملے میں پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ تھااَور نبی اَکرم ۖ کے دِل آزار ، شرانگیز اَور توہین آمیز خاکے بنانے والے گروہ نے عالمی طاقتوں اَور رائے عامہ کو اِس بری طرح یرغمال بنا رکھا ہے، اُن کی طرف سے بھی مسلسل ناموسِ رسالت کے خلاف غوغا آرائی جاری تھی۔ اِس کے ساتھ ساتھ مسیحی برادری کو اِس قانون سے ڈرا کر باقاعدہ فریق بنالیا گیا اَور اِس معاملے کو مسلم مسیحی محاذ آرائی کا رنگ دینے کی کوشش کی جانے لگی اَور پھر آزادی اِظہارِ رائے اَور حقوقِ نسواں کے خوشنما نعروں کی آڑ میں اِس قانون کے خلاف معرکہ آرائی بھی جاری تھی، اِس لیے ہم نے بھی اِس معاملہ کو بگاڑ کی طرف جانے سے بچانے کے لیے مجبورًا میدانِ عمل میں نکلنے کا اِرادہ کیا اَور عالمی مجلس ِتحفظِ ختم ِنبوت کے رہنماؤں سے گزارش کی کہ ناموسِ رسالت کے معاملے میں آل پارٹیز کانفرنس بُلانی چاہیے۔ وہ ذرا گومگو کی کیفیت میں تھے اَور اُنہیں یہ فکر لاحق تھی کہ آل پارٹیز کانفرنس کی کامیابی کیسے یقینی بنائی جائے گی لیکن جب اُنہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی اَور کانفرنس کی کامیابی کی ذمہ داری لی تو یہ طے پایا کہ ١٥ دسمبر کو اِسلام آباد میں آل پارٹیز تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ١٥دسمبر کو منعقد ہونے والی کانفرنس ایک یادگار کانفرنس تھی جس میں ملک بھر کی تمام اہم مذہبی اَور سیاسی جماعتوں نے بھرپور اَنداز سے شرکت کی۔ اِس موقع پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٢٤ دسمبر کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ٢٤ دسمبر کو ملک بھر میں مظاہرے ہوئے۔ ٣١ دسمبر کو تاریخ ساز شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوئی پھر٧ جنوری کو کراچی میں عظیم الشان ریلی کا اِنعقاد کیا گیا۔ ٣٠ جنوری کو لاہور میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ اِس تحریک کے دوران مسلمانانِ پاکستان اَور تحریک ِتحفظِ ناموسِ رسالت کے قائدین و کارکنان کے تین بڑے مطالبات تھے : پہلا مطالبہ یہ تھا کہ حکومت اِنسدادِ توہینِ رسالت قانون میں ہر قسم کی ترمیم و تحریف سے باز رہے۔