ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
جاتے ہیں پریس کانفرنس کرتے ہیں ملعونہ آسیہ کو تھپکی دی جاتی ہے، اُس کی وکالت کا فریضہ گورنر پنجاب اَنجام دیتے ہیں تیار درخواست پر اُس کے دستخط گورنرصاحب کراتے ہیں اُس کی درخواست آنجناب (صدر مملکت) کی خدمت میں خود لے جانے کا اعلانِ عام ہوتا ہے اَور گورنر صاحب کا یہ اِرشاد ہوتا ہے کہ میں نے تحقیق کرلی ہے یہ وقوعہ غلط ہے۔ گویا پنچایت کا فیصلہ غلط ،جناب سلمان تاثیر صاحب (سلمان رُشدی کی بات نہیں ہورہی گورنر پنجاب کا ذکر مبارک ہورہا ہے) بیرونی دُنیا کے سامنے پاکستان کا کیا نقشہ پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کا پنچایتی نمبردارانہ نظام، پولیس، عدلیہ سب غلط ہیں۔ جناب تاثیر کی یہ پُرتاثیر پاکستان کی خدمت تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ مدتوں اِسے گورنر بنانے کے آپ کے مبارک فیصلہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہے گا۔ صدر مملکت! آپ سے درخواست ہے کہ اگر فیصلہ غلط ہے تو ہائیکورٹ پھر سپریم کورٹ اَور پھر نظر ثانی کے تمام مراحل کو یکسر نظر اَنداز کرکے یہ کیا جارہا ہے کہ عدلیہ کو گورنری کے عہدہ کی طرح یوں بے توقیر نہ کیا جائے، یہ ملک کی خیر خواہی سے میل نہیں کھاتا۔ جان کی اَمان ملے تو عرض کرنا چاہوں گا کہ جب اِس پر ننکانہ صاحب میں ہڑتال ہوئی وکلا نے ہڑتال کی عدالتوں کا بائیکاٹ ہوا عوام سڑکوں پر آئے گویا جہاں یہ وقوعہ ہوا وہاں کے سوادِ اعظم نے گورنر پنجاب کے موقف کو یکسر مسترد کردیا۔ پنجاب بار کونسل نے گورنر کے اِس اِقدام کو توہین ِعدالت قرار دیا۔ خود وزیر اعظم پاکستان نے اِس اِقدام کو خلافِ قانون تسلیم کیا۔ جب سب نے اِس موقف کے کذب پر مہرِتصدیق ثبت کردی تو گورنر صاحب نے دُوسرا موقف اِختیار کیا کہ یہ ضیاء الحق کا قانون ہے، بھٹو صاحب کا قانون نہیں لہٰذا یہ کالا قانون ہے۔ صدر مملکت صاحب! غور فرمایئے یہ کیا فرمایا جارہا ہے؟ ضیاء الحق کی آڑ میں اَنبیائے صادقین علیہم السلام بالخصوص پیغمبر اِسلام ۖ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے قانون کو کالا قانون کہا جارہا ہے۔ اِس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے شہباز بھٹی اعلان کرچکے ہیں۔ این جی اَوز، عاصمہ جہانگیر، رانجھا صاحب پتہ نہیں کون کون میدان میں اُترے کہ قانون کو ختم کیا جائے۔ اِن کا جواب ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے یہ دیا کہ پورے یورپ میں توہین ِرسالت کے قوانین موجود ہیں وہاں کیوں احتجاج نہیں ہوتا؟ اَور راجہ ظفرالحق صاحب نے کہا کہ یہ قانون رہنے دیا جائے۔ اِس کی موجودگی کا ملزم کو ہی فائدہ ہوتا ہے ورنہ جہاں وقوعہ ہواوہاں ردّعمل کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔