ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! ( حضرت مولانا اﷲ وسایا صاحب ) بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم اما بعد! ١٤ جون ٢٠٠٩ء میں چک نمبر ٣ اٹانوالی ضلع ننکانہ میں ایک دِل سوز سانحہ ہوا جس کی تفصیل یہ ہے کہ اِس گائوں کے ایک زمیندار کا فالسہ کا باغ ہے، علاقہ کی عورتیں فالسہ کے باغ سے پھل توڑتی ہیں اَور اپنی مزدوری لیتی ہیں اِن عورتوں میں آسیہ نام کی ایک مسیحی خاتون بھی تھی جو اُس گائوں کے ایک سابق فوجی عاشق مسیح کی اہلیہ ہے۔ عاشق مسیح کے گھر میں پہلے سے آسیہ کی بڑی بہن بھی موجود ہے۔ عاشق نے پہلے بڑی بہن سے شادی کی اُس سے جوان اَولاد ہے اُن میں سے بعض کی شادی بھی ہوچکی ہے ،یہ اَب بھی زندہ ہے اَور عاشق مسیح کے عقد میں ہے۔ اِس دوران اُنہوں نے اپنی اہلیہ کی چھوٹی بہن آسیہ سے بھی شادی رچائی اَب دونوں بہنیں ایک شخص کے عقد میں ایک ساتھ رہ رہی ہیں۔ فالسہ کا پھل توڑنے والی عورتوں میں مسلمان عورتیں عافیہ اَور عاصمہ سگی بہنیں بھی شریک تھیں۔ آسیہ مسیحی عورت نے عافیہ و عاصمہ کے گلاس سے پانی پیا۔ اِن دونوں بہنوں نے اِس گلاس سے پانی پینے کی بجائے پیالی میں پانی پیا۔ اِس کا آسیہ نے بُرا منایا اَور پھر اُس نے رحمت ِدوعالم ۖکی ذاتِ گرامی سے متعلق دِلخراش، اِہانت آمیز کلمات کہے۔ سیّدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی آنحضرت ۖ سے شادی مبارک کے بارے میں بھی سخت اِہانت آمیز، تحقیرانہ اَنداز میں واہی تباہی بکی۔ گائوں کی دونوں مسلمان عورتیں عافیہ و عاصمہ نے یہ سنا تو رونا شروع کردیا۔ زمیندار جس کا باغ تھا اُس کے بیٹے محمد افضل کو اُنہوں نے یہ واقعہ سنایا۔ اُس نے خود آسیہ مسیحی عورت سے بھی پوچھا تو اُس ملعونہ نے اعتراف کیا کہ واقعی رحمت ِدوعالم ۖ اَور سیّدہ خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو اُس نے گالیاںبکی ہیں۔ رفتہ رفتہ بات گائوں میں پہنچی، گائوں کے اِمام قاری سلیم صاحب نے گائوں کے لوگوں کی موجودگی میں اُس ملعونہ سے پوچھا تو بھی اُس ملعونہ نے حضو