ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
اَور کلیسائے رُوم کے طرزِ عمل سے باور کرلیا کہ باہر کے ملکوں کے ویزاو نیشنیلٹی کے لیے آسان راستہ یہ ہے کہ پیغمبر علیہ السلام کو گالیاں دو اَور ایف آئی آر کو بنیاد بناکر باہر کا آسانی سے ویزا حاصل کرو۔ کلیسائے رُوم اَور مسیحی این جی اَوز سے کوئی پوچھے کہ چودہ سو سال سے پیغمبر علیہ السلام، قرآن مجید کے پیروکار، اُمت ِمحمدیہ سیّدنا مسیح علیہ السلام کی صفائی کے وکیل کا کردار اَدا کررہے ہیں۔ یہودیت کے بالمقابل چودہ سو سال سے اَور ڈیڑھ سو سال سے قادیانی چیف گرو مرزا غلام احمد قادیانی کے بالمقابل کہ یہ دونوں (یہودی و قادیانی) سیّدنا مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں، اِہانت کریں اَور مسلمان اِن کے مقابل میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کی عزت و آبرو کی پاسبانی کریں۔ آج اِس کا کلیسائے رُوم اہل ِاِسلام کو یہ بدلہ چکا رہا ہے کہ پیغمبر علیہ السلام، قرآن مجید، اُمت ِمسلمہ کا شکریہ اَدا کرنے کی بجائے پیغمبر اِسلام کو گالیاں دینے والوں کی حوصلہ اَفزائی کررہا ہے اَور پیغمبر اِسلام کی عزت و ناموس کے قانون کو ختم کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ کوئی پوپ صاحب سے پوچھے کہ جناب !کیا مغربی ممالک میں سیّدنا مسیح علیہ السلام کی عزت کا قانون موجود نہیں؟ اگر ہے اَور یقینا ہے تو وہ صحیح اَور پیغمبر اِسلام کی عزت کا قانون غلط؟ آخر یہ دوہرا معیار کیوں؟ اَور پھر طرفہ یہ کہ پاکستان میں تحفظ ناموسِ رسالت کا قانون تمام اَنبیائے صادقین کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ بایں ہمہ اِس پر تنقید کرنا، سیخ پا ہونا اَور اِس کو ختم کرانے کے دَرپے ہونا اَور اِس کی تنسیخ کے لیے مہم جوئی کرنا، سخت اَفسوس ناک اَمر ہے۔ صدر مملکت پاکستان! جن حکومتوں نے پہلے اِہانت ِرسول کے مجرمان کو بیرونِ ملک بھجوایا اُن کا اَنجام دُنیا نے دیکھ لیا اَور اگر اَب کسی نے اِسی کردار کو دوہرایا تو اُن کا اَنجام دُنیا دیکھ لے گی، اِس لیے کہ باخدا دیوانہ و بامحمد ہشیار باش جناب عزت مآب صدر مملکت! کیا کیا جائے اِس کا کہ اُدھر کلیسائے رُوم بولا، اُدھر امریکا نے نعرہ لگایا کہ ملعونہ آسیہ کے خاندان کے لیے اَمریکا ویزا دینے کو تیار ہے۔ جناب ! کبھی نہ بھولیے وہی امریکا جس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی مسلمان خاتون کو نمونہ عبرت بنایا ہوا ہے، وہی اَمریکا ایک مسیحی ملعونہ گستاخ ِرسول آسیہ کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ آپ کے نمائندہ ہمارے پنجاب کے گورنر جناب سلمان تاثیر کو یہ توفیق تو نہ ہوئی کہ مسلم بیٹی عافیہ کی خبر گیری کرتے لیکن یہ صاحب بہادر ٢٠ نومبر ٢٠١٠ء کو ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں