ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
اكستان |
|
لیکن اِن معقول جوابات کے باوجود قانون تحفظِ ناموسِ رسالت ختم کرانے والوں کے جذبات میں جوار بھاٹے کا اَبھی تک جوبن موجود ہے۔ محترمہ شیریں رحمان نے قومی اسمبلی میں بِل جمع کرایا ہے کہ اِس قانون کو ختم یا تبدیل کردیا جائے۔ کسی وقت اِس قانون کو ختم کرنے کی سازش پروان چڑھ سکتی ہے اَور وہ دلیل یہ لارہے ہیں کہ یہ قانون غلط استعمال ہوتا ہے۔ محترم صدر مملکت! آپ سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ اَور کون سے قانون ہیں جو غلط استعمال نہیں ہوتے۔ پھر اُن کو ختم کرانے کے لیے ہلہ گلہ کیوں نہیں ہورہا؟ مانا کہ بعض بدنصیبوں نے اِسے غلط استعمال کیا ہوگا۔ کیا پولیس کی معاونت کے بغیر غلط درج ہوسکتا ہے؟ نہیں! تو پھر پولیس کی سزا کی بات کیوں نہیں ہوتی قانون کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ مدعی و پولیس آنکھیں بند کرکے غلط کیس درج کراتے ہیں تو جناب آپ عدالتوں کے بارے میں کیا اِرشاد فرمائیں گے؟ آخر وہاں جاکر ملزم کی بے گناہی ثابت ہوجائے گی تو غلط کیس درج کرانے والوں کے بارہ میں دفعہ ٨٢ سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ پورے سسٹم کی موجودگی کے باوجود عدالتی فیصلے کو یوں سبوتاژ کرنا کہ اَپیلوں کے فیصلوں سے قبل اُس کو رہا کرنا ،اِس کے تصور سے بھی جسم پر کپکپی طاری ہوتی ہے۔ محترم جناب زرداری صاحب! آپ ذرا تصور فرمائیں خدا کرے کہ آپ کے عہد ِحکومت میں محترمہ بے نظیر کے قتل ِناحق کے ملزم سزایاب ہوجائیں۔ اُن کی اپیل آپ کے پاس آجائے، کیا عدالتوں کے فیصلوں کے باوجود آپ ملزموں کی سزا معاف کردیں گے؟ یقینا اِس کا جواب نفی میں ہے تو پھر توجہ فرمائیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صا حبہ سے کہیں زیادہ رحمتِ ِدوعالم ۖ کی ذات ِاَقدس کا ایک مسلمان حکمران پرحق ہے۔ آپ اِس سے چشم پوشی نہ کریں ورنہ یہ تو حقیقت ہے کہ دُنیا چند روزہ ہے ایک اَور عدالت بھی ہے اُس عدالت کے فیصلہ کو بائی پاس نہ کیا جاسکے گا۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علی خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین