ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
علیہ السلام کی اِہانت کا بَرملا اِعتراف کیا اَور ساتھ معافی چاہی۔ گائوں کی پنچایت نے قرار دیا کہ یہ ملعونہ خود اِعترافِ جرم کرتی ہے اَور یہ جرم ایسا ہے جس کی کوئی مسلمان معافی نہیں دے سکتا لہٰذا اِس ملعونہ ملزمہ کو قانون کے سپرد کیا جائے۔ یہ پنچایت ١٩ جون ٢٠٠٩ء کو ہوئی۔ چنانچہ پنچایت کی تحقیقات کے بعد مقدمہ نمبر ٣٢٦٠٩ زیرِ دفعہ سی٢٩٥ تھانہ صدر ننکانہ میں درج ہوا۔ اِسی روز پولیس نے ملعونہ آسیہ کو گرفتار کرلیا۔ مقدمہ کی تفتیش ایس پی اِنویسٹی گیشن شیخوپورہ سیّد محمد اَمین بخاری نے کی۔ اُنہوں نے مدعی اَورملزم دونوں پارٹیوں کا موقف سنا گواہوں کے بیانات قلمبند کیے اَور اپنی آزادانہ تحقیقات میں ملعونہ آسیہ کو گناہ گار قرار دے کر چالان مکمل کرکے عدالت کے سپرد کیا۔ جناب محمد نوید اِقبال اَیڈیشنل جج کی عدالت میں ڈیڑھ سال کیس چلتا رہا۔ اِستغاثہ کے گواہان پیش ہوئے، صفائی کے گواہ پیش ہوئے، مدعی و ملزمہ کے وکیل پیش ہوئے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد فاضل جج نے جرم ثابت ہونے پر ٨نومبر٢٠١٠ء کو اِسے سزا ئے موت اَور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ اِس سزا کے خلاف مجرمہ آسیہ نے ہائیکورٹ میں اَپیل دائر کردی۔ اِس دوران میں کلیسائے رُوم کے پوپ بینی ڈکٹ نے اَخبارات کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ اِس ملعونہ کو رِہا کیا جائے، پہلے بھی اِٹلی اَور برطانیہ کے کلیسائے رُوم میں نصف درجن سے زائد ملعونین مجرمان کو محفوظ رہائش گاہیں اَور روزگار فراہم کیا گیا۔ اَفغانستان کا مر تد عبدالرحمن، مصر کی ملعونہ کمیلا شاہنا، بحرین کا ملعون یاسر اَلحبیب، کابُل کا صحافی احمد، سب کلیسائے رُوم کے تحت مختلف ممالک جیسے اِٹلی وغیرہ میں پناہ گزین ہیں۔ دُنیا ئے مسیحیت کے پوپ ہمیشہ اہم اِنٹرنیشنل لیول کے مسائل پر اِظہارِ خیال کرتے ہیں شخصی معاملات میں مداخلت اُن کے منصب کے خلاف سمجھی جاتی ہے۔ اِس بار اُنہوں نے اِس ملعونہ کے شخصی کیس میں مداخلت کی ۔ نتیجہ میں پاکستان کے مختلف بشپ صاحبان بھی اِس ملعونہ کی رہائی کے لیے بیانات داغنے اَور اپیل کرنے لگے گویا مسلمانوں کے دَرپے آزار ہوئے۔ جناب صدر مملکت صاحب! پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ عہدِ اِقتدار میں بھی یہ واقعہ تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک سزا یافتہ ملزم کو جیل سے راتوں رات رہا کرکے بیرونِ ملک بھجوادیا گیا۔ چنانچہ اُس کے بعد پورے ملک میں غیر مسلموں کی طرف سے اِہانت ِرسول کے واقعات ہونے لگے۔ اِن ملعونوں نے حکومت ِپاکستان