ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
مسئلہ رجم : مسئلہ رجم اُن مسائل میں سے ہے جو اِسلام سے پہلے عیسائیوں میں اَور اُن سے پہلے یہودیوں میں اَنبیاء ِکرام پر نازل کردہ کتابوں میں موجود چلے آ رہے تھے۔ اِسی لیے جب یہ مسئلہ آنحضرت ۖکے سامنے آیا تو قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی : وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَھُمُ التَّوْرٰةُ فِیْھَا حُکْمُ اﷲِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَآ اُولئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (پ٦ سورة المائدہ آیت ٤٣) ''اَوروہ تجھ کو کس طرح منصف بنائیں گے اَور اُن کے پاس تو تو راة ہے جس میں کہ اللہ کا حکم (موجود) ہے۔ پھر اُس کے بعد (بھی) وہ (اِس حکم سے) پھرتے ہیں۔ اَور وہ ہرگز ماننے والے (ایمان لانے اَور اُس پر قائم رہنے والے) نہیں ہیں۔'' اَور اِرشاد ہوا :اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْر یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا۔ (پ ٦ سُورة المائدہ آیت ٤٤) ''ہم نے تو راة نازل کی اُس میں ہدایت اَور نور ہے اِس پر یہود کے فیصلے کرتے تھے (اُن کے) پیغمبر جو کہ اللہ کے حکم بردار تھے۔ '' یعنی یہ مسئلہ آپ کے زمانہ کے یہودیوں کو معلوم تھا تو راة میں موجود تھا اَور تورات مقدس کے احکام پر اَنبیاء کرام فیصلے کرتے آئے تھے اَور اُن کے بعد علماء بھی والرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ (آیت: ٤٤) نیز اِرشاد ہوا کہ یہ اَحکام جیسے تورات میں اُتارے گئے تھے ویسے ہی اِنجیل میں بھی باقی رکھے گئے تھے۔ وَقَفَّیْنَا عَلٰی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰةَ۔ (سُورة المائدہ آیت ٤٦) ''اِن کے پیچھے اِن ہی (موسٰی علیہ السلام) کے نقش قدم پر ہم نے عیسٰی بن مریم کو بھیجا تصدیق کرنے والا اپنے سامنے توراة کی۔ '' وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزََلَ اللّٰہُ