Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011

¾اكستان Ù

16 - 64
مسئلہ رجم  :
مسئلہ رجم اُن مسائل میں سے ہے جو اِسلام سے پہلے عیسائیوں میں اَور اُن سے پہلے یہودیوں میں اَنبیاء ِکرام پر نازل کردہ کتابوں میں موجود چلے آ رہے تھے۔ اِسی لیے جب یہ مسئلہ آنحضرت  ۖکے سامنے آیا تو قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی  : وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَعِنْدَھُمُ التَّوْرٰةُ فِیْھَا حُکْمُ اﷲِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَمَآ اُولئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (پ٦ سورة المائدہ آیت ٤٣)
''اَوروہ تجھ کو کس طرح منصف بنائیں گے اَور اُن کے پاس تو تو راة ہے جس میں کہ اللہ کا حکم (موجود) ہے۔ پھر اُس کے بعد (بھی) وہ (اِس حکم سے) پھرتے ہیں۔ اَور وہ ہرگز ماننے والے (ایمان لانے اَور اُس پر قائم رہنے والے) نہیں ہیں۔''
اَور اِرشاد ہوا  :اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْر یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا۔ (پ ٦ سُورة المائدہ آیت ٤٤)
''ہم نے تو راة نازل کی اُس میں ہدایت اَور نور ہے اِس پر یہود کے فیصلے کرتے تھے (اُن کے) پیغمبر جو کہ اللہ کے حکم بردار تھے۔ ''
یعنی یہ مسئلہ آپ کے زمانہ کے یہودیوں کو معلوم تھا تو راة میں موجود تھا اَور تورات مقدس کے احکام پر اَنبیاء کرام فیصلے کرتے آئے تھے اَور اُن کے بعد علماء بھی  والرَّبَّانِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ (آیت: ٤٤)
نیز اِرشاد ہوا کہ یہ اَحکام جیسے تورات میں اُتارے گئے تھے ویسے ہی اِنجیل میں بھی باقی رکھے گئے تھے۔ 
وَقَفَّیْنَا عَلٰی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرٰةَ۔  (سُورة المائدہ آیت ٤٦)
''اِن کے پیچھے اِن ہی (موسٰی علیہ السلام) کے نقش قدم پر ہم نے عیسٰی بن مریم کو بھیجا تصدیق کرنے والا اپنے سامنے توراة کی۔ ''
وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فِیْہِ وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزََلَ اللّٰہُ
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اہلِ مشرق میں فتنہ اَور دِلوں کی سختی : 7 3
5 اہلِ حجاز کی تعریف : 7 3
6 آواز گھٹتی بڑھتی ہے : 7 3
7 جمعہ شہروں میں ، حنفی مسلک اَور اُس کی وجہ : 8 3
8 ''نجد ''کا جغرافیہ : 9 3
9 بَحْرَیْن : 10 3
10 شدت اَور نجدی : 10 3
11 بصرہ : 10 3
12 مسئلہ رجم 11 1
13 ''حد'' کی تعریف : 21 12
14 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
15 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 14
16 اُسوۂ حَسَنہ یا اَخلاقِ ظاہرہ : 23 14
17 غرباء و مساکین کے ساتھ : 24 14
18 خدام کے ساتھ : 26 14
19 قسط : ٢٤ تربیت ِ اَولاد 29 1
20 صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! 33 1
21 موت العَالِم موت العَالَم 38 1
22 رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حِکمت 39 1
23 قسط : ا حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 44 1
24 نام و نسب : 44 23
25 پیدائش : 44 23
26 عہد ِنبوی ۖ : 45 23
27 عہد ِصدیقی : 45 23
28 عہد ِفاروقی : 45 23
29 عہد ِعثمانی : 46 23
30 بیعت ِخلافت کے وقت حضرت علی کو مشورہ : 46 23
31 وفیات 47 1
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 48 1
33 غیر مسلموں کے ساتھ معاملات : 48 32
34 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 50 1
35 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 50 34
36 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 50 34
37 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 51 34
38 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 54 34
39 گلد ستہ اَحادیث 58 1
40 دوزخ کی دیواروں کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی : 58 39
41 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ : 60 39
42 بقیہ : رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حکمت 61 22
43 دینی مسائل ( نذر اَور منت کا بیان ) 62 1
44 نذر کے صحیح ہونے کی شرائط : 62 43
45 نذر کے بارے میں ایک اَور ضابطہ : 63 43
Flag Counter