ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
فَاُولئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (پ٦ سُورة المائدہ آیت ٤٧) ''اَور چاہیے کہ حکم (فیصلے) کریں اِنجیل والے جو اللہ نے اُس میں اُتارا ہے اِس کے موافق اَور جو کوئی اللہ کے اُتارے ہوئے (حکم) کے موافق حکم (فیصلہ) نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ '' اِن آیات کی تفسیر سمجھنے کے لیے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی رحمة اللہ علیہ نے اِن آیات کا (تاریخی واقعہ) سبب ِنزول بحوالہ بغوی تحریر فرمایا ہے کہ : ''خیبر کے ایک یہودی مرد و عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا باوجودیکہ توراة میں اِس جرم کی سزا (رجم) سنگسار کرنا تھی مگر اِن دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو یثرب میں ہے (یعنی حضرت محمد ۖ) اِن کی کتاب میں زانی کے لیے رجم کا حکم نہیں کوڑے مارنے کا ہے۔ تو بنی قریظہ کے یہود میں سے کچھ آدمی اِن کے پاس بھیجو کیونکہ وہ اِن کے ہمسایہ ہیں اَور اِن سے صلح کا معاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ وہ اِن کا خیال معلوم کر لیں گے چنانچہ ایک جماعت اِس کام کے لیے روانہ کی گئی کہ نبی کریم ۖ کا عندیہ معلوم کر لے کہ زانی مُحصن کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں۔ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو اُن پر رکھ کر قبول کر لو اَور رجم کا حکم دیں تو مت مانو۔ اِن کے دریافت کرنے پر حضور ۖ نے فرمایا کہ تم میرے فیصلہ پر رضا مند ہو گے؟ اُنہوں نے اِقرار کر لیا، خدا کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام رجم کا حکم لے آئے۔ مگر وہ لوگ اپنے اِقرار سے پھر گئے آخر حضور ۖ نے فرمایا کہ فدَک کا رہنے والا ابن صوریا تم میں کیسا شخص ہے؟ سب نے کہا آج رُوئے زمین پر شرائع موسویہ کا اِس سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔ آپ نے اُس کو بلوایا اَور نہایت ہی شدید حلف دے کر پوچھا کہ تو رات میں اِس گناہ کی سزا کیا ہے باوجودیکہ دُوسرے یہود اِس حکم کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے جس کا پردہ حضرت عبداللہ بن سلام کے ذریعہ سے فاش ہو چکا تھا تاہم ابن صوریا نے جواِن کا مسلم معتمد تھا کسی نہ کسی وجہ سے اِس کا اِقرار کر لیا کہ بے شک توراة