Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011

¾اكستان Ù

17 - 64
فَاُولئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (پ٦ سُورة المائدہ آیت ٤٧)
 ''اَور چاہیے کہ حکم (فیصلے) کریں اِنجیل والے جو اللہ نے اُس میں اُتارا ہے اِس کے موافق اَور جو کوئی اللہ کے اُتارے ہوئے (حکم) کے موافق حکم (فیصلہ) نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔ ''
اِن آیات کی تفسیر سمجھنے کے لیے علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی رحمة اللہ علیہ نے اِن آیات کا (تاریخی واقعہ) سبب ِنزول بحوالہ بغوی تحریر فرمایا ہے کہ  :
''خیبر کے ایک یہودی مرد و عورت نے جو کنوارے نہ تھے زنا کیا باوجودیکہ توراة میں اِس جرم کی سزا (رجم) سنگسار کرنا تھی مگر اِن دونوں کی بڑائی مانع تھی کہ یہ سزا جاری کی جائے آپس میں یہ مشورہ ہوا کہ یہ شخص جو یثرب میں ہے (یعنی حضرت محمد ۖ) اِن کی کتاب میں زانی کے لیے رجم کا حکم نہیں کوڑے مارنے کا ہے۔ تو بنی قریظہ کے یہود میں سے کچھ آدمی اِن کے پاس بھیجو کیونکہ وہ اِن کے ہمسایہ ہیں اَور اِن سے صلح کا معاہدہ بھی کر چکے ہیں۔ وہ اِن کا خیال معلوم کر لیں گے چنانچہ ایک جماعت اِس کام کے لیے روانہ کی گئی کہ نبی کریم  ۖ  کا عندیہ معلوم کر لے کہ زانی مُحصن کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں۔ اگر وہ کوڑے مارنے کا حکم دیں تو اُن پر رکھ کر قبول کر لو اَور رجم کا حکم دیں تو مت مانو۔
 اِن کے دریافت کرنے پر حضور  ۖ نے فرمایا کہ تم میرے فیصلہ پر رضا مند ہو گے؟ اُنہوں نے اِقرار کر لیا، خدا کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام رجم کا حکم لے آئے۔ مگر وہ  لوگ اپنے اِقرار سے پھر گئے آخر حضور  ۖ نے فرمایا کہ فدَک کا رہنے والا ابن صوریا   تم میں کیسا شخص ہے؟ سب نے کہا آج رُوئے زمین پر شرائع موسویہ کا اِس سے زیادہ جاننے والا کوئی نہیں۔ آپ نے اُس کو بلوایا اَور نہایت ہی شدید حلف دے کر پوچھا کہ تو رات میں اِس گناہ کی سزا کیا ہے باوجودیکہ دُوسرے یہود اِس حکم کو چھپانے کی ہر ممکن  کوشش کر رہے تھے جس کا پردہ حضرت عبداللہ بن سلام کے ذریعہ سے فاش ہو چکا تھا تاہم ابن صوریا نے جواِن کا مسلم معتمد تھا کسی نہ کسی وجہ سے اِس کا اِقرار کر لیا کہ بے شک توراة
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اہلِ مشرق میں فتنہ اَور دِلوں کی سختی : 7 3
5 اہلِ حجاز کی تعریف : 7 3
6 آواز گھٹتی بڑھتی ہے : 7 3
7 جمعہ شہروں میں ، حنفی مسلک اَور اُس کی وجہ : 8 3
8 ''نجد ''کا جغرافیہ : 9 3
9 بَحْرَیْن : 10 3
10 شدت اَور نجدی : 10 3
11 بصرہ : 10 3
12 مسئلہ رجم 11 1
13 ''حد'' کی تعریف : 21 12
14 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
15 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 14
16 اُسوۂ حَسَنہ یا اَخلاقِ ظاہرہ : 23 14
17 غرباء و مساکین کے ساتھ : 24 14
18 خدام کے ساتھ : 26 14
19 قسط : ٢٤ تربیت ِ اَولاد 29 1
20 صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! 33 1
21 موت العَالِم موت العَالَم 38 1
22 رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حِکمت 39 1
23 قسط : ا حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 44 1
24 نام و نسب : 44 23
25 پیدائش : 44 23
26 عہد ِنبوی ۖ : 45 23
27 عہد ِصدیقی : 45 23
28 عہد ِفاروقی : 45 23
29 عہد ِعثمانی : 46 23
30 بیعت ِخلافت کے وقت حضرت علی کو مشورہ : 46 23
31 وفیات 47 1
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 48 1
33 غیر مسلموں کے ساتھ معاملات : 48 32
34 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 50 1
35 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 50 34
36 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 50 34
37 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 51 34
38 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 54 34
39 گلد ستہ اَحادیث 58 1
40 دوزخ کی دیواروں کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی : 58 39
41 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ : 60 39
42 بقیہ : رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حکمت 61 22
43 دینی مسائل ( نذر اَور منت کا بیان ) 62 1
44 نذر کے صحیح ہونے کی شرائط : 62 43
45 نذر کے بارے میں ایک اَور ضابطہ : 63 43
Flag Counter