ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
باَمراللہ چلتا آیا ہے اِمَامُ دَارِالْہِجْرَةِ (مدینہ منورہ) امام مالک رحمة اللہ علیہ ہیں۔ یہ مدینہ شریف ہی میں پیدا ہوئے وہیں وفات پائی۔ یہ عمر میں اِمام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ سے کم اَز کم تیرہ سال چھوٹے تھے اَور تابعی نہ تھے۔ حنفی ائمہ میں اِمام ابو یوسف امام اعظم کے شاگرد ہیں ۔امام مالک سے اِنہوں نے نہیں پڑھا ،اِمام محمد نے اِمام اعظم اِمام ابو یوسف اَور اِمام مالک تینوں سے پڑھا ہے فقہ حنفی میں جہاں امام اعظم کا ذکر آتا ہے وہاں اِن حضرات کا بھی ذکر آتا ہے۔ (٣) دُنیا میں ایسے تیسرے اِمام جنہیں ملّتِ اِسلامیہ نے اِسی طرح قبول کیا اَور اُن کی عظمت کا اعتراف کیا امام شافعی ہیں۔ یہ اِمام مالک اَور اِمام محمد دونوں کے شاگرد ہیں۔ حافظ ذہبی فرماتے ہیں: ثُمَّ حَفِظَ الْمُؤَطَّأ وَ عَرَضَہ عَلٰی مَالِکٍ موطا یاد کر کے اِمام مالک کو سنائی۔ وہ لکھتے ہیں وَکَتَبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنٍ وَقْرَ بُخْتِیِّ امام محمد بن الحسن سے اِنہوں نے بختی اُونٹ کے وزن کے برابر کتابیں لکھیں۔ (تذکرة الحفاظ للذہبی ص ٣٦٢ ج ا و مثلہ فی لسان المیزان ص١٢١ ج ٥) (٤) دُنیا میں ایسے چوتھے اِمام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ ہیں۔ اِنہوں نے اِمام شافعی رحمة اللہ علیہ سے اِمام مالک کی روایات لیں اگرچہ وہ اِن کے تقریبًا ہمعصر تھے لیکن اِمام شافعی کے شاگرد تھے اَور امام ابویوسف کے بھی۔حافظ ذہبی نے اِمام ابویوسف کے حالات میں لکھا ہے : وَعَنْہُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ اَلْفَقِیْہُ وَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ( تذکرة الحفاظ للذہبی ج١ ص ٢٩٢ ) اِن سے اِمام محمد اَور اِمام احمد بن حنبل نے پڑھا ہے۔ اِمام ابو یوسف سے اِمام لیث نے بھی روایت لی ہے۔ لیث امام مالک کے معاصر تھے اِن کی روایت عن یعقوب عن النعمان امام طحاوی نے اپنی جلیل القدر تصنیف شرح معانی الآثار میں باب القراء ة خلف الامام میں دی ہے۔ یعقوب (ابو یوسف) نعمان (ابو حنیفہ) ۔ اِمام شافعی کی عمر کا آخری حصہ مصر میں گزرا ہے وہ فرماتے ہیں کہ لَیْث لَیْسَ بِدُوْنِ مَالِکٍ اِلَّا اَنَّ اَصْحَابَہ ضَیَّعُوْہُ یعنی لیث اِمام مالک سے علم میں کم نہیں ہیں سوائے اِس کے کہ اِن کے شاگردوں نے اِن کے علوم محفوظ نہیں رکھے ضائع کردیے۔ اِمام شافعی جب مصر پہنچے ہیں تو لیث وفات پا چکے تھے اِن کے شاگردوں سے اِن کی ملاقاتیں اَور مذاکرات ہوئے ۔