ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
لیکن ہمیں کوئی مسئلہ ثابت کرنے کے لیے اِن ہی کتابوں پر اِنحصار کرنا پڑے ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اِمام اعظم ابو حنیفہ وغیرہ امام بخاری و مسلم وغیرہ سے بہت پہلے گزرے ہیں اِن کی پیدائش حسب اِختلاف مورخین ٦٠ھ میں اِمام بخاری کی پیدائش سے ایک سو چونتیس سال پہلے ہوئی ورنہ کم اَز کم ایک سو چودہ سال پہلے ہوئی جب وہ پیدا ہوئے تو امام اعظم کا مسلک (مسائل اِجتہادیہ) تمام دُنیا میں پھیل چکا تھا۔ جو دلیلیں یعنی حدیثیں امام اعظم کو پہنچیں اُنہوں نے اُن سے مسائل سمجھنے کے اصول وضع کیے (اُصول فقہ) اَور مسائل اِستنباط کیے (یعنی نکالے) وہ دُنیا بھر کے علماء میں پہنچے اِس طرح ہر حدیث اَور مسئلہ دُنیا بھر کے علماء کے بیشتر حصہ نے مانا اُس پر عمل کیا اَور فیصلے دیے۔ ایسے مسائل کا اِنکار اِنکارِ حقیقت کے مترادف ہو گا ،دُنیائے اِسلام کے چاروں اِمام اِسی صد سالہ عرصہ میں گزرے ہیں جو امام بخاری سے پہلے کا دور ہے۔ اِس لیے مسئلہ رجم کے بارے میں مناسب ترین طریقہ یہ ہے کہ دُنیا میں اِن ہی معروف و مسلم ائمہ اَربعہ کی کتابوں میں جو روایات ہیں وہ اِس مضمون میں لکھ دی جائیں تا کہ معلوم ہو کہ ہر مسئلہ پر پوری اُمت کا اِتفاق چلا آرہا ہے تردّد کی بھی گنجائش نہیں۔ (١) ائمہ اَربعہ میں سب سے پہلے اِمام جن کی علمیت و تقویٰ پر خود بخود اُمت ِمسلَّمہ کے سب سے بڑے حصہ نے اعتماد کیا اَور اُن کے مسلک و فتاوی پر چلنے لگے وہ امام اعظم ابو حنیفہ النعمان ہیں رحمہ اللہ۔ اِمام اعظم تابعی بھی ہیں۔ وہ حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں : رَأٰی اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ غَیْرَ مَرَّةٍ لَمَّا قَدِمَ عَلَیْہِمُ الْکُوْفَةَ ۔( تذکرة الحفاظ ج ١ ص ١٦٨) ''اِنہوں نے حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ کو متعدد بار دیکھا ہے جب وہ اِن کے یہاں کوفہ آئے۔'' حافظ ابن ِحجر عسقلانی نے تحریر فرمایا ہے : رَأٰی اَنَسًا … ( تہذیب التہذیب ج ١٠ ص ٤٤٩)''حضرت اَنس رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے۔ '' (٢) دُوسرے ایسے ہی جلیل القدر امام جن کے اصول و مسائل پر علماء اُمت کا دُوسرا حصہ خود بخو