Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011

¾اكستان Ù

13 - 64
کہی ہو گی بعینہ وہی بات آخری آدمی کہے گا یہ تو عام بات کا عام جواب ہے لیکن محدثین کی شرائط پر پورے اُترنے والے لوگ لیے جائیں جو فی الوقت مل تو جائیں گے مگر لاکھوں میں ایک ملے گا جیسے یہ محدثین لاکھوں میں ایک  تھے پھر اِن میں سے ہر ایک ایسا ہو کہ وہ اُس علم سے پوری دلچسپی رکھتا ہو اَور ہر شخص کو یاد کرنے کا موقع بھی دیا  جائے پھر وہ دُوسرے کو اَور دُوسرا تیسرے کو بات پہنچائے یعنی اُن کے حافظہ کا یہ حال ہو کہ ایک دفعہ ہی میں پوری بات ٹیپ کی طرح محفوظ ہو جاتی ہو اَور مزید یاد کرنے کا موقع بھی دیاجائے پھر تیسرے چوتھے آدمی تک بات  نہیں بدل سکتی۔ تجربہ کے طور پر ایسا امتحان ممکن بھی ہے اگرچہ محدثین کی جانچ اَور اُن کے امتحانات پھر بھی بہت زیادہ اَور ساری عمر ہوتے رہے ہیں۔ 
ایسے تمام اصول کہ روایت کرنے والے کیسے ہوں اَور روایت کے کیا کیا قاعدے ہیں یہ بھی سب موجود ہیں معرفة علوم الحدیث ، المحدث الفاصل ،کفایہ فی علم الروایہ ، مقدمہ ابن صلاح ، تدریب الراوی ،  شرح نُخبة الفکر ، الرفع والتکمیل ممکن الحصول کتابیں ہیں۔ اِن قواعد کے مطابق ہر روایت کا درجہ مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ اصولِ حدیث کی کتابیں کہلاتی ہیں۔ 
بہت سی حدیثیں ایسی ہیںجن میں جناب رسول اللہ  ۖکے کام نقل کیے گئے ہیں مثلاً آپ جہاد میں جاتے ہوئے فلاں باغ سے گزرے وہاں باغ کے پھل کے وزن کا اَندازہ لگایا۔ اِس قسم کی روایات جو جناب رسول اللہ  ۖ  کی حرکات و سکنات سے تعلق رکھتی ہوں بہت ہیں اِن میں الفاظ بدلنے سے مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ 
جناب رسول اللہ  ۖنے جو قواعد و اُصول مقرر فرمائے اُن میں الفاظ بدلیں گے تو بھی مفہوم ایک ہی رہے گا مثلاً میراث کے قواعد کوئی بھی حساب داں اَحادیث سامنے رکھ کر یاد کرے تو قاعدہ وہی رہے گا۔ 
لیکن محدثین نے اِتنی احتیاط برتی ہے کہ اِن میں بھی جناب رسول اللہ  ۖ  کی زبانِ مبارک سے اَدا ہونے والے کلمات ہی باقی اَور محفوظ رکھے ہیں۔ اِس احتیاط کے ساتھ تین چار واسطوں سے امام بخاری و مسلم  وغیر ہم تک حدیثیں پہنچی ہیں اَور اِنہوں نے اپنی اپنی کتابیں اپنے اپنے معیار اَور نقطۂ نظر سے لکھی ہیں۔ 
نیز تحریرِ حدیث صحابۂ کرام کے زمانہ میں ہونے لگی تھی اِمام زہری کے زمانہ میں جو صحابہ کرام کا زمانہ   تھا یہ دستور عام ہو چکا تھا اِس بارے میں ہم نے اَلگ با حوالہ مضمون لکھا ہے اِس تحریر کے ساتھ وہ جمع نہیں ہو سکتا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 6 1
4 اہلِ مشرق میں فتنہ اَور دِلوں کی سختی : 7 3
5 اہلِ حجاز کی تعریف : 7 3
6 آواز گھٹتی بڑھتی ہے : 7 3
7 جمعہ شہروں میں ، حنفی مسلک اَور اُس کی وجہ : 8 3
8 ''نجد ''کا جغرافیہ : 9 3
9 بَحْرَیْن : 10 3
10 شدت اَور نجدی : 10 3
11 بصرہ : 10 3
12 مسئلہ رجم 11 1
13 ''حد'' کی تعریف : 21 12
14 اَنفَاسِ قدسیہ 23 1
15 قطب ِ عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدصاحب مدنی کی خصوصیات 23 14
16 اُسوۂ حَسَنہ یا اَخلاقِ ظاہرہ : 23 14
17 غرباء و مساکین کے ساتھ : 24 14
18 خدام کے ساتھ : 26 14
19 قسط : ٢٤ تربیت ِ اَولاد 29 1
20 صدر مملکت کی خدمت میں کھلا خط! 33 1
21 موت العَالِم موت العَالَم 38 1
22 رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حِکمت 39 1
23 قسط : ا حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 44 1
24 نام و نسب : 44 23
25 پیدائش : 44 23
26 عہد ِنبوی ۖ : 45 23
27 عہد ِصدیقی : 45 23
28 عہد ِفاروقی : 45 23
29 عہد ِعثمانی : 46 23
30 بیعت ِخلافت کے وقت حضرت علی کو مشورہ : 46 23
31 وفیات 47 1
32 اِسلام کی اِنسانیت نوازی 48 1
33 غیر مسلموں کے ساتھ معاملات : 48 32
34 ماہِ صفرکے اَحکام اَور جاہلانہ خیالات 50 1
35 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 50 34
36 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 50 34
37 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اَور اُس کی تردید : 51 34
38 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 54 34
39 گلد ستہ اَحادیث 58 1
40 دوزخ کی دیواروں کی موٹائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی : 58 39
41 حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور کا ایک واقعہ : 60 39
42 بقیہ : رحمة للعالمین ۖکے لیے تعددِ اَزواج کی حکمت 61 22
43 دینی مسائل ( نذر اَور منت کا بیان ) 62 1
44 نذر کے صحیح ہونے کی شرائط : 62 43
45 نذر کے بارے میں ایک اَور ضابطہ : 63 43
Flag Counter