ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2011 |
¾اكستان Ù |
|
کہی ہو گی بعینہ وہی بات آخری آدمی کہے گا یہ تو عام بات کا عام جواب ہے لیکن محدثین کی شرائط پر پورے اُترنے والے لوگ لیے جائیں جو فی الوقت مل تو جائیں گے مگر لاکھوں میں ایک ملے گا جیسے یہ محدثین لاکھوں میں ایک تھے پھر اِن میں سے ہر ایک ایسا ہو کہ وہ اُس علم سے پوری دلچسپی رکھتا ہو اَور ہر شخص کو یاد کرنے کا موقع بھی دیا جائے پھر وہ دُوسرے کو اَور دُوسرا تیسرے کو بات پہنچائے یعنی اُن کے حافظہ کا یہ حال ہو کہ ایک دفعہ ہی میں پوری بات ٹیپ کی طرح محفوظ ہو جاتی ہو اَور مزید یاد کرنے کا موقع بھی دیاجائے پھر تیسرے چوتھے آدمی تک بات نہیں بدل سکتی۔ تجربہ کے طور پر ایسا امتحان ممکن بھی ہے اگرچہ محدثین کی جانچ اَور اُن کے امتحانات پھر بھی بہت زیادہ اَور ساری عمر ہوتے رہے ہیں۔ ایسے تمام اصول کہ روایت کرنے والے کیسے ہوں اَور روایت کے کیا کیا قاعدے ہیں یہ بھی سب موجود ہیں معرفة علوم الحدیث ، المحدث الفاصل ،کفایہ فی علم الروایہ ، مقدمہ ابن صلاح ، تدریب الراوی ، شرح نُخبة الفکر ، الرفع والتکمیل ممکن الحصول کتابیں ہیں۔ اِن قواعد کے مطابق ہر روایت کا درجہ مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ اصولِ حدیث کی کتابیں کہلاتی ہیں۔ بہت سی حدیثیں ایسی ہیںجن میں جناب رسول اللہ ۖکے کام نقل کیے گئے ہیں مثلاً آپ جہاد میں جاتے ہوئے فلاں باغ سے گزرے وہاں باغ کے پھل کے وزن کا اَندازہ لگایا۔ اِس قسم کی روایات جو جناب رسول اللہ ۖ کی حرکات و سکنات سے تعلق رکھتی ہوں بہت ہیں اِن میں الفاظ بدلنے سے مطلب ایک ہی رہتا ہے۔ جناب رسول اللہ ۖنے جو قواعد و اُصول مقرر فرمائے اُن میں الفاظ بدلیں گے تو بھی مفہوم ایک ہی رہے گا مثلاً میراث کے قواعد کوئی بھی حساب داں اَحادیث سامنے رکھ کر یاد کرے تو قاعدہ وہی رہے گا۔ لیکن محدثین نے اِتنی احتیاط برتی ہے کہ اِن میں بھی جناب رسول اللہ ۖ کی زبانِ مبارک سے اَدا ہونے والے کلمات ہی باقی اَور محفوظ رکھے ہیں۔ اِس احتیاط کے ساتھ تین چار واسطوں سے امام بخاری و مسلم وغیر ہم تک حدیثیں پہنچی ہیں اَور اِنہوں نے اپنی اپنی کتابیں اپنے اپنے معیار اَور نقطۂ نظر سے لکھی ہیں۔ نیز تحریرِ حدیث صحابۂ کرام کے زمانہ میں ہونے لگی تھی اِمام زہری کے زمانہ میں جو صحابہ کرام کا زمانہ تھا یہ دستور عام ہو چکا تھا اِس بارے میں ہم نے اَلگ با حوالہ مضمون لکھا ہے اِس تحریر کے ساتھ وہ جمع نہیں ہو سکتا