ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2010 |
اكستان |
|
رہے ہیں بات آپ، اَور اجازت دینا ثابت ہے۔ دُوسرے وہ ہے جھاڑپھونک جو قرآن پاک کی آیات کے ذریعہ ہو اُس میں کوئی حرج نہیں بلکہ وہ صحابی نے وہاں جو اپنا طے کیا تھا بکری کا ریوڑ وہ بھی رسول اللہ ۖ نے جائز قراردیا منع نہیں فرمایا اُس کو۔ تو اِس طرح سے آنکھ کے بارے میں نظر جو لگ جاتی ہے اُس کو فرمایا اَلْعَیْنُ حَقّ یہ نظر لگنا بالکل حق ہے فَلَوْ کَانَ شَیْئ سَابَقَ الْقَدْرَ سَبَقَتْہُ الْعَیْنُ اگر کوئی چیز ایسی ہوتی دُنیا میں کہ جو تقدیر پر غالب آجائے تقدیر سے آگے بڑھ جائے تو یہ نظر ایسی چیز ہے کہ اِسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اِتنی قوت رکھتی ہے وَاِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوْا ١ جب تم سے یہ کہا جائے کہ اپنے ہاتھ پائوں دھودو تو دھودیا کرو ۔اَب اِس میں یہ ہے کہ ایک عمل تھا پرانا طریقہ چلا آرہا تھا کہ اگر کسی کے نظر لگ گئی ہو کسی کی یہ پتا ہو کہ اِس کی نظر لگی ہے بعض لوگ معروف ہوتے ہیں نظر اُن کی لگتی ہے بہت سخت بعض ایسے معروف ہوتے ہیں چنانچہ واقعات ہیں ایسے ایک نے ایک جہاز کو دیکھا وہ جہاز بیچ سے ٹکڑے ہوگیا پسند آیا تھا اُس کو وہ جہاز اَور وہ کہتے ہیں دُوسرا آدمی تھا اُس نے کہا کہ کیسی عجیب نظر اِس کی لگتی ہے تو پھر جس نے نظر لگائی تھی وہ اَندھا ہوگیا تو اِس کی اُسے لگ گئی نظر ایسے ہوتا ہے۔ ''بَارَکَ اللّٰہْ'' اَور'' مَاشَائَ اللّٰہْ'' کا فائدہ : ہاں اگر بَارَکَ اللّٰہْ وغیرہ کہہ لیں اُس کو دیکھ کر جو چیز پسند آئی ہو پھر یہ نہیں ہوتا پھر اَثر نہیں پڑتا تو صحابۂ کرام میں ایک صاحب تھے اُن کی نظر لگا کرتی تھی ۔اَب جس کو پتا ہو کہ میری نظر لگتی ہے تو اُسے خود احتیاط کرنی چاہیے کہ اِتنے غور سے نہ دیکھے، یہ کسی قسم کی طاقت ہے جو ضرر رسانی کی ایک قوت ہے اَور آنکھ کے ذریعے سے ریڈیائی طریقے پر جیسے کوئی چیز منتقل ہوجائے ایسے وہ اَثر اَنداز ہوتی ہے اَثر بھی بہت شدید ہوتا ہے اُس کا۔ رسول اللہ ۖ کے پاس وہ صحابی دُوسرے جنہیں نظر لگی تھی آئے رسولِ کریم علیہ الصلٰوة والتسلیم نے اُن کو بلایا جن کی نظر لگی تھی اُنہیں بلاکر سمجھایا کہ یہ کیا کیا تم نے اُنہوں نے کہا یہ نہارہا تھا اُس کے بدن پر میری نظر پڑی، بدن مجھے اِس کا بڑا پسند آیا خدا نے اِسے خوش نما بدن دیا ہے جلد، کھال، رنگ اُس کا عجیب تھا ١ مشکوة شریف ص ٣٨٨