ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2010 |
اكستان |
|
فرصت میں اِس کو ختم کر دیا جائے ۔ کانگریس متحدہ ہندوستان کے نظریہ سے جدا نہیں ہوئی لیکن وہ حق ِخوداِرادیت کو بھی تسلیم کر چکی تھی کہ جو علاقے یونین میں شامل نہ ہونا چاہیں اُنہیں مجبور کرنے کے خلاف ہے۔'' یہ دماغوںکی مجبوری کیا تھی ، یہ وہی فرقہ واریت تھی جودونوںپلیٹ فارموں پررقص کررہی تھی جس کا افسوسناک اَثریہ تھا کہ ٣ جون ١٩٤٧ء کوتقسیمِ ہند کی اسکیم کا اعلان ہوا اور ١٦ جون تک کانگریس اَور مسلم لیگ (ہندوستان کی دونوںبڑی جماعتوں نے ) اِس کے حق میں منظوری صادر کر دی۔ (الجمعیة کا مجاہد ِملّت نمبر ص٥٨ تا ص ٦١ خصوصی شمارہ مطبوعہ دہلی) (جاری ہے ) بقیہ : ملفوظات شیخ الاسلام جس کے معنی یہ سمجھے گئے کہ ہم سے علیحدہ ہونے والے افراداَور فرقے اصحاب ِ عدل نہیں نہ اصحاب ِ توحید ہیں اَور نہ اہلِ بیت سے محبت رکھنے والے ہیں، اِس قسم کے سائن بورڈ وں سے عوام مسلمین میں زمانہائے گزشتہ میں جو زہر پھیلاوہ اِن تاریخی واقعات سے ظاہر ہے جو کہ اَزمنہ سابقہ میں معتزلہ ،خوارج، روافض وغیرہ اَور اہل ِسنت کے آپس میں پیش آئے اَور اَزمنہ اَخیرہ میں بھی اِس قسم کی حرکتوں سے غیر مقلد اَور مقلدوں، قرآنیوں اَور نیچریوں ، قادیانیوں، خاکساریوں میں ظہور پذیر ہوئے ۔ ہر ایک اپنے اِس قسم کے سائن بورڈ وں سے دُوسرے فرقوں پر اِس قسم کا حملہ کرتا ہے کہ وہ اِس کمال سے محروم اَور خالی ہیں، غیر مقلد اپنے آپ کو اہل ِ حدیث والتوحید کے خوشنما سائن بورڈ سے مزین کر کے آواز بلند کرتا ہے کہ اَحناف حد یث ِنبوی سے محروم اَور توحید سے خالی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ کی جماعت اسلامی کے سا ئن بورڈسے بھی یہی چر کالگتا ہے کہ جولوگ اِسلامی جماعت کے ممبر نہیں ہیں وہ حقیقی موحد نہیں ہیں وہ اسلامیت ِ کاملہ نہیں رکھتے اِس سے عوام کو جس قدر اِنتشار اَور افتراق میں مبتلاکیا جاتا ہے وہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے جس کا اَدنیٰ اَثر یہ ہوگا کہ اِسلامی جماعت میں نہ داخل ہونے والے مشرک اَور کافر غیر ناجی ہیں ہر ایک من مانی باتوں پر ہٹ کرے گا اَور اُمت ِ مسلمہ کو انتہائی مشکلات میں مبتلا کرے گا۔ض ض ض