Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی2009

اكستان

22 - 64
لیے روایت کے قوت وضعف کا اِس پر انحصار ہوتاہے۔ 
ایک صحابی سے کئی تابعین کی ایک روایت راوی کی صفات کے لحاظ سے مختلف ہوگی کوئی اَقوی ہوگی کوئی قوی کوئی صحیح ہوگی کوئی حسن ہوگی کوئی ضعیف ہوگی پھر جوں جوں رُواة کا سلسلہ بڑھتا جائے گا ہر طبقے کے راوی کے لحاظ سے ایک ہی صحابی کی روایت کی صفات بدلتی رہیں گی اور ایک راوی بھی کاذب سند میں شامل ہوگیا تو وہی روایت ساقط الاعتبار ہوجائے گی۔اِس لیے آپ کا حضرت عائشہ کی روایت کے بارے میں یہ فرمانا اُن سے خود سننے والے ایک دُوسرے کے متابع نہیں ہوں گے۔ بہر صورت خلاف ِ واقعہ ہے۔ پہلے قدم  پر بھی اور آخری قدم پر بھی۔ پہلے راوی کی روایت بھی اَصل اور متابع ہوسکتی ہے اَور آخری راوی کی روایت بھی اَصل اور متابع ہو سکتی ہے۔ اَصل اور متابع کا مدار سند ہے ۔سند قوی ہے تو اَصل ہے سند کمزور ہے تو متابع اور مؤید ہے۔ 
آپ نے اِس روایت ِ تزوج کے حضرت عائشہ سے براہ ِ راست سات رُواة کے سماع کا ذکر کیا ہے اور لفظوں میں لکھا ہے  آٹھ شمار ہوں گی۔ مثلا ً اَسود عن عائشہ ۔ عروہ عن عائشہ۔ ابو عبیدہ عن عائشہ۔ یہ تینوں روایتیں صحاح خمسہ میں مذکور ہیں۔ مصنفین نے اِنہیں ذکر کر کے اَصل اور متابع کو ظاہر کیا ہے۔ بعض نے صرف ایک روایت کو لیا ہے۔ اُن کے نزدیک وہی اَصل ہے۔ بعض نے دو کا ذِکر کیا ہے۔ اُن کے نزدیک پہلی اَصل ہے اور دُوسری متابع ہے۔
یہ بات بھی دیکھنے کی ہے کہ یہ تینوں روایتیں کوفی ہیں۔ اَسود ابو عبیدہ کوفی ہیں اُن کے نیچے کے رُواة کوفی ہیں۔ روایت ِ ہشام کے رُواة اُن سے براہ ِ راست نقل کرنے والے ٩کوفی ہیں اور حفاظ ِ حدیث ہیں۔ روایت ِ ہشام کے اقوی ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے۔اِس روایت ِ تزوج پر غور کرنے کاایک پہلو یہ بھی ہے۔ معتبر کتب ِ حدیث میں یہ روایت سب سے پہلے
(ا)  مصنف عبد الرزاق  ٢١١  میں آئی مگر اُس کتاب میں مرسِل عروہ ہے یعنی حضرت عائشہ کے متعلق ایک قول ِتابعی ہے حضرت عائشہ سے منقول نہیں ۔
(ب)  پھر امام شافعی کی کتاب الام میں ہشام بن عروہ کی روایت موصول ہوکر آئی۔ یہ امام ہیں اکیلے ہی دُوسرے رُواة پر بھاری ہیں۔ 
(ج)  پھر یہی روایت ِ ہشام بن عروہ دارمی، بخاری اور ابو داود میں آئی۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 جو مانگے گا بعینہ وہی قبول ہو گا : 7 3
5 قبولیت کی ساعت کسی کسی کو اَور رات کی فضیلت ہر کسی کو مل سکتی ہے : 7 3
6 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
7 سب سے بڑا خوش قسمت : 8 3
8 کس کی دُعا زیادہ اچھی تھی ؟ : 8 3
9 ملفوظات شیخ الاسلام 10 1
10 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 10 9
11 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
12 وضاحت : 23 11
13 مصعب بن سعد عن عائشہ : 24 11
14 روایت عبداللہ بن عروہ عن عائشہ : 24 11
15 عَبْدُ الْمَلِکْ بِنْ عُمَیْرْ عَنْ عَائِشَہْ : 27 11
16 اُمت ِمسلمہ کی مائیں 30 1
17 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا 30 16
18 حضرت عائشہ نے مصاحبت ِ رسول ۖ سے خوب فائدہ اُٹھایا : 30 16
19 آنحضرت ۖ سے سوالات : 30 16
20 تربیت ِ اَولاد 34 1
21 اَولاد کی وجہ سے ہزاروں فکریں اور جھمیلے : 34 20
22 جن کے اَولاد نہ ہوتی ہو اُن کی تسلی کے لیے عجیب مضمون : 35 20
23 (١) سلام میں تخصیص : 37 20
24 (٢) تجارت میں عورتوں کی شرکت : 38 20
25 (٣) قطع رحمی : 39 20
26 (٤) جھوٹی گواہی : 41 20
27 (٥) سچی گواہی کو چھپانا : 41 20
28 (٦) دین سے ناواقفیت : 42 20
29 آیت خاتم النبییّن اَور اَکابر ِ اُمت 44 1
30 گلدستہ ٔ اَحادیث 46 1
31 چھ اَفراد جن پر اللہ اور اللہ کے رسول ۖ لعنت فرماتے ہیں : 47 30
32 قطع رحمی ....... قرآن وسنت کی روشنی میں 48 1
33 قطع رحمی کی صورتیں : 48 32
34 قطع رحمی کے اسباب : 50 32
35 قطع رحمی کے مختلف اسباب ہیں : 50 32
36 ( دینی مسائل ) 56 1
37 کسی شرط پر طلاق دینے کا بیان : 56 36
38 بقیہ : آیت خاتم النبےّین اور اکابر اُمت 58 29
39 وفیات 59 1
40 اَخبار الجامعہ 60 1
41 سفر نامہ 61 1
Flag Counter