ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2008 |
¾اكستان Ù |
|
یہ صورت ِ حال مسلمانوں کے جذبات کو نہ صرف مجروح کررہی ہے بلکہ عوامی سطح پر اشتعال کی شکل بنتی چلی جارہی ہے۔ خاص طورپر اِن اَخباری اطلاعات نے حالا ت کی سنگینی میں مزید اِضافہ کردیا ہے کہ ایم کیو ایم کے مفرور قائد الطاف حسین نے قادیانیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اُن کو کراچی اور حیدرآباد میں مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔ قبل اَزیں مسلمان ہونے کے ناطے ہم الطاف حسین کے بارے میں اِس قسم کی بدگمانی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیوں کی ''فرنگی اماں'' کی گود کی شیر خواری نے اپنا رنگ دکھایا ہے اور الطاف حسین نے وہی بولی بولنی شروع کردی ہے جو برطانیہ کے ''بغل بچے '' بولا کرتے ہیں۔ الطاف کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ کراچی اور حیدرآباد کے مسلمان جو ایم کیو ایم کا لیبل اپنے سینوں پر سجائے ہوئے ہیں اگر قادیانیت کا معاملہ پیش آجاتا ہے تو ناموس ِرسا لت کی خاطر وہ اِس لیبل کو نہ صرف نوچ پھینکیں گے بلکہ اپنے ایمان کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے ایم کیو ایم سے بغاوت کا کھلم کھلا اعلان کریں گے اورکراچی وحیدر آباد کے بچے کُچے قادیانیوں کا بوریا بسترہ گول کرکے عقیدہ ٔ ختم ِ نبوت سے اپنی وفاداری کا برملا اِظہار کریں گے۔ الطاف حسین اگر اپنی'' پاسنگی سیاسی حیثیت '' مزید کچھ عرصہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کراچی اور حیدر آباد کے مسلمانوں کی ایمانی غیر ت کو کھلونا نہ بنائیں۔ نیزپی پی پی کی قیادت کو بھی یہ حقیقت باور کرلینی چاہیے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانیوں کی غیر مسلم اقلیت کی مسلمہ حیثیت کو اگر کسی بھی درجہ میں چھیڑا گیا تو اُس کے نتائج کسی بھی طورملک وقوم کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔ اِسی طرح قانون میں موجود سزائے موت کو ختم کرنے کی کوششیں بھی ملک میں خو ن خرابہ میں مزید اضافے کا سبب بنیں گی۔ملک کی موجودہ نازک صورت ِ حال بھی اِن حساس معاملات کو چھیڑنے کی اِجازت نہیں دیتی۔ نیز حادثاتی طورپر جذباتی ووٹوں کے زورپر اقتدار میں آنے والی پی پی پی کے قائدین کے پیش نظر یہ سوالیہ حقیقت بھی ہونی چاہیے کہ خود اُن کا اپنا سیاسی تشخص کتنے عرصہ کا مہمان ہے ۔