Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2008

اكستان

48 - 64
تفہیم کی روایت قائم نہیں ہوگی دُنیا میں امن کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔ اِن دو بڑی قوموں کے درمیان ٹکراؤ و کشیدگی سے صرف اور صرف صیہونی نسل پرستوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ اِس طرح اُنہیں دونوں قوموں پر اپنے خونی پنجے گاڑھنے کا مزید موقع ملے گا۔ یہ بات مغرب جتنی جلدی سمجھ لے اُس کے اور انسانیت کے حق میں بہتر ہوگا۔ 
اِس وقت دُنیا کا سب سے مقبول نظام و سسٹم ڈیموکریسی و سیکولراِزم ہے جس پر مغرب کا نہ صرف ایمانِ واثق ہے بلکہ وہ اِس کی خاطر قوموں کی نسل کشی پر بھی آمادہ ہے۔ افغانستان و عراق میں اپنی خونریزی کو جواز دینے کے لیے امریکہ و نیٹو کا یہی دعویٰ ہے ہم ڈیموکریسی و سیکولراِزم کی برکات بانٹنے آئے ہیں اور ان دونوں کی رُوح ہے حکومت اور قوانین معاشرے کی مرضی و منشاء کے مطابق ہوں نہ کہ باہر سے مسلط کیے جائیں  حتّٰی کہ دُنیا کی کسی (ربرسٹمپ) پارلیمنٹ کو بھی یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف کسی سپرپاور کے دباؤ میں آکر قوانین معاشرہ پر مسلط کرے۔ غرض یہ عصر حاضر کی بنیادی ضرورت ہے کہ رَواداری و اِفہام و تفہیم کا ماحول قائم کرنے کے لیے اَقوامِ عالَم کو چند متشرکہ نکات پر اتحاد و اِشتراک کرنا ہوگا۔ چودہ سو سال پہلے قرآن نے تینوں آسمانی مذاہب کے لیے مفاہمت و اتحاد کا تین نکاتی فارمولا دیا تھا  :  (١) خالق کے سوا کسی کی حقیقی عبادت و تابعداری نہ کی جائے ۔ (٢) اِس عبادت و اطاعت میں کسی بھی طاقت و قوت کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔(٣) اقوامِ عالَم (طاقتور و کمزور) ایک دُوسرے پر رب و خالق بن کر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ پہلے دو نکات یہودیت، کرسچین اور اسلام میں مسلم ہیں۔ یہ تینوں آسمانی مذاہب توحید کے قائل اور شرک سے بیزار ہیں البتہ مغرب تیسرے نکتہ کے خلاف ڈیڑھ ہزار سال سے پاپا کریسی میں مبتلا رہا ہے۔ کرسچین کے مذہبی طبقے سے بنیادی غلطی یہی ہوئی کہ اُنہوں نے خالق کا اطاعت و قانون سازی کا حق پوپ کو دے کر اُسے عملاً رب و خالق کا درجہ دے دیا تھا۔ ہزار سال تک پوپ مطلق العنان بن کر مذہبی معاشرے کی سیاسی حتّٰی کہ شہنشاہوں کے فیصلے کرتا رہا۔ 
یہ فیصلے محض اُس کی ذاتی مرضی و صوابدید پر منحصر ہوتے تھے اور دُنیا کی کسی عدالت میں اُنہیں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا اِس سے فائدہ اُٹھاکر پوپ نے اپنے اِقتدار کی خاطر یورپ کے عوام و معاشرے پر اپنی غلامی مسلط کردی، سوچ و فکر پر پہرے بٹھادیے۔ہزار سال پوپ کے مطلق العنان اِقتدار کے تاریک دَور
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 صحابہ ایک دُوسرے کی تعریف کیا کرتے تھے اپنی نہیں : 7 3
5 یہ تعریف نہیں ہے بلکہ تعارف ہے : 7 3
6 دِکھانا اور اُس کی حکمت : 9 3
7 قرآن وحدیث میں آئندہ کو گذشتہ سے تعبیر کرنے کی حکمت 9 3
8 تحےةالوضو ء اور ہمیشہ باوضو رہنے کی فضیلت 10 3
9 کم کھانے کے فوائد : 10 3
10 چوری کرنا باطنی مرض ہے صرف غربت اِس کی وجہ نہیں ہے : 10 3
11 غربت کے باوجود چوری ڈاکہ سے بچنا بلکہ تقو ی اختیار کرنا : 10 3
12 ملفوظات شیخ الاسلام 12 1
13 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 14 1
14 عورتوں کے رُوحانی امراض 20 1
15 عورتوں کی اِصلاح کے طریقے : 20 14
16 عورتیں پیروشیخ بن کراِصلاح کاکام کرسکتی ہیں یانہیں ؟ : 20 14
17 عورتوں کومرد بنے کی تمنا کرنا : 21 14
18 عورتوں کی ایک بڑی خوبی : 22 14
19 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 23 1
20 حضرت سیّدہ فاطمہ کے گھر میں سیّد ِ عالم ۖ کا آنا جانا : 23 19
21 خانگی اَحوال : 25 19
22 اَلوَداعی خطاب 27 1
23 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 35 1
24 بقیہ : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 38 19
25 گلدستہ ٔ اَحادیث 39 1
26 دُنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے 39 25
27 چار باتیں جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیگر حضرات پر فضیلت حاصل 41 25
28 آرچ بشپ آف کنٹر بری ڈاکٹر روون وِلیمز 43 1
29 برطانیہ و مغرب کے زمینی حقائق : 45 28
30 اسلامی قانون و شریعت کا اِمتیاز : 49 28
31 حضرت مولانا نیاز محمد صاحب دوتانی نور اللہ مرقدہ' 52 1
32 حضرت مولانا نیاز محمد صاحب اَکابر علماء اور زُعماء قوم کی نظر میں : 53 31
33 شق القمر(LUNAR FISSURE ) 55 1
34 ینی مسائل 57 1
35 ( طلاق دینے کا بیان ) 57 34
36 تحریری طلاق : 57 34
37 طلاق دینے کاطریقہ : 57 34
38 عالمی خبریں 59 1
39 کے غیر اِنسانی سلوک کی 29 تصاویر 59 38
40 موبائل فون اِستعمال کرنے سے مردانہ بانجھ پن پیدا ہوسکتا ہے 59 38
41 طبی ماہرین نے شہد کو اینٹی بائیوٹک کا بہتر متبادل قرار دے دیا 60 38
42 فرانس : مسلمان خاتون کو برقعہ پہننے پر سکول سے نکال دیا گیا 61 38
43 جنات قابو 61 38
44 اخبار الجامعہ 62 38
45 بقیہ : عورتوں کے رُوحانی امراض 63 14
Flag Counter