ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2008 |
اكستان |
|
تکافل یا اِسلامی انشورنس کمپنی اپنے سرمایہ کے ایک حصہ سے وقف کا ایک فنڈ قائم کرتی ہے جو اولاً تو فنڈ میں شریک اُن لوگوں کے لیے ہوگا جو فنڈ کی شرائط کے مطابق کسی حادثاتی نقصان کا شکار ہوئے ہوں اور بالآخر نیکی کے ختم نہ ہونے والے کاموں کے لیے ہوگا۔ فنڈ کے سرمایہ کو مضاربت پر دیا جائے گا اور حاصل ہونے والے نفع کو فنڈ کے مقاصد میں خرچ کیا جائے گا۔ تنشئی شرکة التامین الاسلامی صندوقا للوقف و تعزل جزأً معلوما من رأس مالھا یکون وقفا علی المتضررین من المشترکین فی الصندوق حسب لوائح الصندوق و علی الجھات الخیریة فی النھایة… فیبقی ھذا الجزء المعلوم من النقود مستثمرا بالمضاربة وتدخل الارباح فی الصندوق لاغراض الوقف۔ -2 وقف فنڈ کسی کی ملکیت میں نہیں ہوتا۔ اِس کی خود اپنی معنوی شخصیت ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے وہ مالک بنتا ہے اور مالک بناتا ہے ۔ ان صندوق الوقف لا یملکہ احد، و تکون لہ شخصیة معنویة یتمکن بھا من ان یتملک الاموال ویستثمرھا و یملکھا حسب اللوائح المنظمة لذلک۔ -3 اِنشورنس میں دلچسپی لینے والے فنڈ کی شرائط کے مطابق اِس کو چندہ دے کر فنڈ کے ممبر بن سکتے ہیں۔ ان الراغبین فی التامین یشترکون فی عضویة الصندوق بالتبرع الیہ حسب اللوائح ۔ -4 اِنشورنس پالیسی لینے والے وقف فنڈ کو جو چندہ دیں گے وہ اُن کی ملکیت سے نکل کر وقف فنڈ کی ملکیت میں داخل ہو جائے گا خود وقف نہ ہوگا۔ لہٰذا اِس رقم کی اِس طرح سے حفاظت واجب نہ ہو گی جس طرح وقف رقم کی واجب ہوتی ہے۔ وقف فنڈ کے فائدے کے لیے چندہ کی رقم کو بھی نفع بخش کاروبار میں لگایا جائے گا اور چندے کی اَصل رقم کو اِس کے منافع سمیت نقصانات کی تلافی کے لیے اور وقف کے دیگر مقاصد کے