ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
¾اكستان Ù |
|
بالشویک اِنقلاب کے ایک سال بعد رُوسی حکومت کے محکموں میں کس قدر یہودی اثر ونفوذ قائم ہوچکا تھااِس کا اَندازہ مندرجہ ذیل اَعداد وشمار سے لگائیے : نام اِدارہ مجموعی ملازمین یہودیوں کی تعداد اِنقلاب کے بعد حکومت کے وزاراء 22 17 جنگی منتظم 43 34 کمیٹی اُمور داخلہ 64 45 کمیٹی اُمور خارجہ 17 13 مالی اُمور 30 26 عدالتی اُمور 19 18 محکمۂ صحت 5 4 اُمورِ تعلیم 53 44 محکمۂ تعمیرات 2 2 رُوسی ریڈ کراس 8 8 صوبائی ڈائریکٹریٹ 23 21 صحافت 42 41 ملازمین کی جائزہ کمیٹی 7 5 زارِ رُوس اور اُسکے خاندان کے قتل ِعام کی تحقیقات کمیٹی 10 7 اعلیٰ معاشی کمیٹی 56 45 ماسکو میں ملازمین اور فوج کا دفتر 23 19 چوتھی سوویت کانفرنس کی مرکزی کمیٹی 34 33 پانچویں سوویت کانفرنس کی مرکزی کمیٹی 62 34 کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی 13 9 ٹوٹل 532 425 ظاہر ہے کہ اِن تمام محکموں میں یہودیوں کا اَوسط تناسب80% تھا۔ اَسٹالین کے زماظاہر ہے کہ اِن تمام محکموں میں یہودیوں کا اَوسط تناسب80% تھا۔ اَسٹالین کے زمانے میں سوویت یونین میں یہودیوں کا اَثر ونفوذ زبر دست رہا وہی سیاست کی ہائی کما ن کے ذمہ دار تھے۔خرو شچوف کی حکومت کے دَورسے یہودیوں کی گرفت کمزور پڑنا شروع ہوئی، یہودیوںکی مخفی حکومت نے جب یہ اَندازہ کرلیا کہ خرو شچوف صہیونی گرفت سے باہر ہے اور وہ یہودیوںکے فلسطین منتقل ہونے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہے تو عالمی یہودی حکومت نے سوویت یونین کے خلاف زبردست مہم شروع کی اور اُس پر یہ الزام لگایاکہ یہ ''سامی دُشمن ''حکومت ہے۔ آج یہ پروپیگنڈہ زور وشور سے چل رہا ہے کہ سوویت یونین میں یہودیوںپر ظلم ہو رہا ہے۔ (خیال رہے کہ یہ بات ١٩٦٤ ء کی ہے)میں نے ما سکوریڈ یو کی نشریات میں یہودی پروپیگنڈہ کی تردید کے سلسلہ میں یہ بیان پڑھا تھا : ''سوویت یونین کی آبادی ٢٢٥ ملین ہے ،اِن میں دو ملین (٢٠لاکھ )یہودی سوویت یونین میں شہریت کے تمام حقوق سے مستفید ہو رہے ہیںجس کی دلیل یہ ہے : 77,000 یہودی طلباء یونیور سٹیوں میں پڑھ رہے ہیں۔ 427000 معاشی ماہرین یہودی ہیں۔ 36,000 سائنسداں یہودی ہیں ۔