ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2008 |
¾اكستان Ù |
|
٭ جبکہ کفر کی حکومت اور اِلحاد و زندقہ کا چاروں طرف غلبہ ہے اور بد دینی اور شرکیہ قوتیں لو گوں کو مرتد بنارہی ہیں کوئی سرزنش اور سزا دینے کی قوت مسلمانوں کے پاس نہیں ہے، لوگ خود مختار ہورہے ہیں کوئی خوف اور دھڑک اِنہیں نہیں ہے جو چاہیں بک دیتے ہیں اور جو چاہیں کر بیٹھتے ہیں ایسے وقتوں میں مسلمانوں کو سنبھالنا اَز بس ضروری ہے، اِن پر تشدد کرنے میں خوف ہے کہ وہ ضد اور ہٹ میں آکر کہیں اور زیادہ نہ بگڑ جائیں۔ ٭ پیشاب پاخانہ او رکھانے پینے کے وقت میں سر کھلا رہنا دُرست تو ہے مگر پیشاب پاخانہ ننگے سر مکروہ ہے۔ ٭ جناب ِرسول اللہ ۖ کااِرشاد ہے کہ اُونٹ اپنی رسیوں سے جس میں وہ بزنجیر ہے اِس قدر چھوٹنے اور بھاگنے کے لیے کوشاں نہیں رہتا جس قدر کہ قرآن لوگوں کے سینوں میں سے چھوٹنے کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ اِس کو کثرت ِتلاوت اور شدت ِتحفظ سے روکو۔ ٭ لوگوں کی تبلیغ اورنصائح بالا آیاتُ القرآنیہ اور بالا احادیث النبویہ علی صاحبہا الف الف سلام و تحیتہ میںمشغول رہنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ ٭ اخلاص اور سچی ہمدردی کو ہاتھ سے جانے نہ دیجئے، مجادلات اور فضول بکواس سے حتی الوسیع اِجتناب فرمائیے، اِس زمانے میں مناظرہ حقیقی نہیں ہوتا، نفس پرستی اور خود نمائی مقصود ہوتی ہے۔ ٭ کسی عام مسلمان کو بھی حقارت سے نہ دیکھئے اگر کوئی عمل اُس کا غلط ہو اُس پر گرفت کیجئے مگر اُس کی حقارت قلب میں ہرگزنہ لائیے۔ ٭ عمرِعزیز کا ہر لمحہ نہایت بیش قیمت جوہرہے۔ آج ہم اِس کی قیمت سے واقف نہیں ہیں۔ مرنے کے بعد روز ِمحشر میںواقف ہوں گے مگر اُس وقت اَفسوس کے سوا کچھ نہ ہو سکے گا۔ ٭ رسول اللہ ۖ کا اِرشاد ہے مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغْزُوْ وَلَمْ یَحْدِثْ بِہ نَفْسَہ مَاتَ عَلٰی شُعْبَةٍ مِّنَ النِّفَاقِ (مسلم) یعنی جس شخص نے زندگی بھر جہاد نہ کیا اور نہ اُس کا جذبہ اِس کے دل میں پیدا ہوا اور اِسی حالت میں مر گیا و ہ ایک قسم کے نفاق کی حالت میںمرا۔ ٭ اِنسان کے اعمال میں نقائص کا ہونا فطری اَمر ہے مگر اِنسان کا فریضہ ہے کہ نقصانات کے ازالہ