Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006

¾اكستان Ù

53 - 64
یوب خان نے کراچی سینٹرل جیل کی مسجد کے امام کو بلواکر نماز عید ادا کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان مولوی صاحب کا اپنا روزہ تھا اور عید کی نماز سرکاری اہل کاروں کو پڑھاکر چلے گئے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ مولانا تھانوی   کو گرفتار کرلیا گیا اور سرکاری عیدگاہ کی امامت کو خیر باد کہہ کر مولانا نشتر پارک منتقل ہوگئے۔ لیکن عوام نے مولانا کا ساتھ دیا سرکار کا نہیں۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ رؤیت کے مسئلے میں سرکاری مداخلت ہوئی۔ 
ذوالفقار علی بھٹو نے ایک مرتبہ مولانا تھانوی سے کہا کہ مولانا! آپ نے چاند نہ ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن میں نے ہوائی جہاز سے عید کا چاند دیکھا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ عید کرلیں، ہمارا تو روزہ ہوگا۔ مختصر یہ کہ مولانا تھانوی ہمیشہ شرعی اُصولوں پر چلتے رہے اور عوامی سطح پر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں رؤیت ہلال کمیٹی کو سرکاری کردیا گیا تھا، لیکن سرکار کی اِس میں چلتی پھر بھی نہیں تھی۔ 
مولانا تھانوی   کی جگہ مولانا محمود احمد رضوی پھر اِن کے بعد مولانا اطہر نعیمی، مولانا محمد عبد اللہ شہید، مولانا غلام مصطفی   اس کے چیئرمین بنے۔ آج کل ایک عرصے سے مفتی منیب الرحمن اس کے چیئرمین ہیں جو اس منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے یقینا قابل احترام ہیں لیکن اب اِن کی شخصیت متنازعہ ہوگئی ہے۔ 
ایک عرصہ سے صوبۂ سرحد کے خواص و عوام یک جہتی سے کوسوں دُور ہوگئے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہاں کے علماء بھی یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ چاند کیا بلا ہے؟ چاند صاحب بھی اپنی جھلک دکھانے کے کچھ اُصول و ضوابط رکھتے ہیں۔ حضرتِ انسان کی طرح بے وقعت و بے وقتی نہیں ہیں جس کو حدیث شریف میں حضور ِاقدس  ۖ  نے کتنے پیارے انداز میں  صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہ فرمادیا۔ صوبۂ سرحد میں چاند نظر آنے کے اُصول و ضوابط شاید دُنیا سے جدا ہیں۔ جب کہیں چاند نہیں ہوتا وہاں موجود ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ سعودی عرب سے بھی پہلے چاند وہاں موجود ہوتا ہے۔ صوبۂ سرحد کی موجودہ تاریخ میں کبھی تیس روزے نہیں ہوئے۔ ہمارے یہاں ٢٨ رمضان کے اَخبار جنگ میں ایک خبر شائع ہوئی کہ صوبۂ سرحد کے جید علماء کرام نے اِعلان کیا ہے کہ ہمارے آج ٢٩ روزے ہوجائیں گے اِس لیے بروز پیر عید الفطر ہوگی۔ ظاہر ہے اُنہوں نے یہ اعلان اپنے اٹھائیسویں روزے کو کیا ہوگا، جب ہی تو یہ اگلے دن کے اخبار میں آیا۔ بھلا اِس اعلان کے بعد شہادتوں کا کیا تک ہے۔ ہاں شاید ایسا تو کئی مرتبہ ہوا کہ شعبان کا مہینہ اٹھائیس دن کا ہوا ہے۔ اِس سال جو دو دن کا فرق ہے اہل سرحد کہاں اس کو ضم کریں گے؟ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 دُنیا کا سب سے پہلا تفصیلی معاہدہ اور یہودیوں کی بدعہدی : 6 3
5 اقوامِ متحدہ کا مدینہ منورہ پر حملہ اور ناکامی : 6 3
6 سیاسی اور فوجی شکست : 7 3
7 مسلمانوں کی سیاسی فتح : 7 3
8 قدامی جہاد اور یہودیوں کے خلاف کارروائی : 8 3
9 یہودیوں کی شیخیاں : 8 3
10 یہودیوں کے نامزد کردہ ثالث نے اِن ہی کے خلاف فیصلہ دیا : 8 3
11 غزوۂ خندق میں حضرت سعد کا زخمی ہونا پھر دُعا کرنا بعد ازاں شہادت : 9 3
12 یہودیوں کی بکواس کی اصل وجہ : 10 3
13 جنازہ ہلکا ہونے کی وجہ : 10 3
14 دُنیا میں ایمان بالغیب ضروری ہے : 10 3
15 بھاری جنازہ کو اچھا سمجھنے کی ظاہری وجہ : 11 3
16 انبیاء اور فرشتوں کی فراست : 11 3
17 اَلوداعی خطاب 12 1
18 این جی اَوز کے ذریعہ اِرتدادی فتنہ : 12 17
19 علماء اور اہل ِثروت ملکر کام کریں : 15 17
20 نبیوں کا طریقہ : 15 17
21 لوگوں کے جائز دُنیاوی کاموں میں مدد کرنا بھی غلبۂ دین کا سبب ہے : 17 17
22 غور طلب چیز : 19 17
23 طل پر زد مکمل اِسلام سے پڑتی ہے اَدھورے سے نہیں : 20 17
24 کھمبے کیا لگے مصیبت بن گئی : 20 17
25 مذہب ذاتی معاملہ نہیںبلکہ اجتماعی ہے : 21 17
26 پھر سوچیں 21 17
27 تنگ نظری اور تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے : 22 17
28 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 23 1
29 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 23 28
30 صفین کے موقع پر ایک ا ور کوشش 23 28
31 حج : اجتماعی بندگی کی علامت 36 1
32 صلاح خواتین 40 1
33 زبان کی حفاظت اور اُس کا طریقہ 40 32
34 فائدہ : 40 32
35 جھوٹ : 40 32
36 غیبت : 41 32
37 غیبت کی عادت : 42 32
38 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 43 1
39 نبوی لیل ونہار 46 1
40 خاص خاص دُعائیں : 46 39
41 صبح کے وقت کی دُعاء : 46 39
42 طلوع ِآفتاب کی دُعاء : 46 39
43 گھر سے نکلنے کی دُعاء : 46 39
44 بازار جانے کی دُعاء : 46 39
45 دُعاء تیز ہوا چلتے وقت کی : 47 39
46 دُعاء بادل گرجتے وقت : 47 39
47 دُعاء بارش برستے وقت : 47 39
48 دُعاء آسمان کی طرف نظر اُٹھاتے وقت : 47 39
49 دُعاء خوف کے وقت : 47 39
50 مشکل کام کے وقت دُعاء : 47 39
51 نظر بَدْ دُور کرنے کی دُعاء : 48 39
52 دُعاء چاند دیکھتے وقت : 48 39
53 دُعاء بُری خبر سنتے وقت : 48 39
54 دُعاء خوشخبری سنتے وقت : 48 39
55 گلدستہ ٔ احادیث 49 1
56 تین باتیں جن سے موت آسان ہوجاتی ہے : 49 55
57 تین طرح کے آدمیوں پر جنت حرام ہے : 49 55
58 حضور علیہ السلام کو اُمت کے حق میں تین باتوں کا خوف : 51 55
59 رؤیت ِ ہلال اور اہل سرحد 52 1
60 عالم ربانی محدث ِکبیر عظیم المرتبت شخصیت 55 1
61 دینی مسائل 59 1
62 ( نکاح کا بیان ) 59 61
63 ولی کا بیان : 59 61
64 بالغ عورت میں ولی کے مسائل : 59 61
65 وفیات 62 1
66 اخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter