ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
یوب خان نے کراچی سینٹرل جیل کی مسجد کے امام کو بلواکر نماز عید ادا کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان مولوی صاحب کا اپنا روزہ تھا اور عید کی نماز سرکاری اہل کاروں کو پڑھاکر چلے گئے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ مولانا تھانوی کو گرفتار کرلیا گیا اور سرکاری عیدگاہ کی امامت کو خیر باد کہہ کر مولانا نشتر پارک منتقل ہوگئے۔ لیکن عوام نے مولانا کا ساتھ دیا سرکار کا نہیں۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع تھا کہ رؤیت کے مسئلے میں سرکاری مداخلت ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک مرتبہ مولانا تھانوی سے کہا کہ مولانا! آپ نے چاند نہ ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن میں نے ہوائی جہاز سے عید کا چاند دیکھا ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آپ عید کرلیں، ہمارا تو روزہ ہوگا۔ مختصر یہ کہ مولانا تھانوی ہمیشہ شرعی اُصولوں پر چلتے رہے اور عوامی سطح پر کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں رؤیت ہلال کمیٹی کو سرکاری کردیا گیا تھا، لیکن سرکار کی اِس میں چلتی پھر بھی نہیں تھی۔ مولانا تھانوی کی جگہ مولانا محمود احمد رضوی پھر اِن کے بعد مولانا اطہر نعیمی، مولانا محمد عبد اللہ شہید، مولانا غلام مصطفی اس کے چیئرمین بنے۔ آج کل ایک عرصے سے مفتی منیب الرحمن اس کے چیئرمین ہیں جو اس منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے یقینا قابل احترام ہیں لیکن اب اِن کی شخصیت متنازعہ ہوگئی ہے۔ ایک عرصہ سے صوبۂ سرحد کے خواص و عوام یک جہتی سے کوسوں دُور ہوگئے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہاں کے علماء بھی یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ چاند کیا بلا ہے؟ چاند صاحب بھی اپنی جھلک دکھانے کے کچھ اُصول و ضوابط رکھتے ہیں۔ حضرتِ انسان کی طرح بے وقعت و بے وقتی نہیں ہیں جس کو حدیث شریف میں حضور ِاقدس ۖ نے کتنے پیارے انداز میں صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہ فرمادیا۔ صوبۂ سرحد میں چاند نظر آنے کے اُصول و ضوابط شاید دُنیا سے جدا ہیں۔ جب کہیں چاند نہیں ہوتا وہاں موجود ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ سعودی عرب سے بھی پہلے چاند وہاں موجود ہوتا ہے۔ صوبۂ سرحد کی موجودہ تاریخ میں کبھی تیس روزے نہیں ہوئے۔ ہمارے یہاں ٢٨ رمضان کے اَخبار جنگ میں ایک خبر شائع ہوئی کہ صوبۂ سرحد کے جید علماء کرام نے اِعلان کیا ہے کہ ہمارے آج ٢٩ روزے ہوجائیں گے اِس لیے بروز پیر عید الفطر ہوگی۔ ظاہر ہے اُنہوں نے یہ اعلان اپنے اٹھائیسویں روزے کو کیا ہوگا، جب ہی تو یہ اگلے دن کے اخبار میں آیا۔ بھلا اِس اعلان کے بعد شہادتوں کا کیا تک ہے۔ ہاں شاید ایسا تو کئی مرتبہ ہوا کہ شعبان کا مہینہ اٹھائیس دن کا ہوا ہے۔ اِس سال جو دو دن کا فرق ہے اہل سرحد کہاں اس کو ضم کریں گے؟