ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
کے ساتھ پھیلے گا اور عام ہوگا۔ تو آپ اِن اکابر کے ان مشائخ کے صحیح جانشین ہوں گے، دیکھئے تعلیم و تدریس ،یقین و احسان یہ ایک کڑی کی حیثیت رکھتا ہے یہ ایک سلسلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید جب تک ہے دین رہے گا، علماء رہیں گے، مدارس رہیں گے۔ مدارس کا رشتہ قرآن سے ہے، علماء کا رشتہ قرآن سے ہے، دین کا رشتہ قرآن سے ہے، قرآن کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ اور جب قرآن نہیں رہے گا تو دُنیا بھی نہیں رہے گی۔ دین نہیں رہے گا تو دُنیا بھی نہیں رہے گی، اُمت نہیں رہے گی تو دُنیا بھی نہیں رہے گی۔ اس بات کو سمجھنا چاہیے ۔ آپ جو ہیں اُمت کے پسندیدہ افراد ہیں کیونکہ آپ کا تعلق قرآن پاک سے ہے، آپ کا تعلق دین سے ہے، دین کا تعلق قرآن پاک سے ہے لیکن اگر آپ نے اس تعلق کو مضبوط کیا، قرآن پاک کو خوب مضبوط کیا تو اِس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئے آپ سے نور پھوٹے گا جیسے قرآن سے نور پھوٹتا ہے اور پھیلتا ہے۔ آپ جتنا مضبوط اِس سے رہیں گے آپ سے نور پھوٹے گا اور پھیلے گا۔ آپ ایسے بنیئے کہ آپ کی شعاعیں دُور دُور تک جائیں، آپ سورج بنیئے، آپ ایسے بنیئے کہ آپ کی روشنی ہر طرف پھیل جائے اور دور دور تک لوگ روشنی حاصل کریں اور ظلمات کافور ہوتی چلی جائیں ہٹتی چلی جائیں۔ ہمیں آپ کے سامنے یہ بات اِس لیے کہنی ہے کہ آپ دیکھئے اللہ کے رسول نے دین سکھایا صحابہ کو، صحابہ نے تابعین کو، تابعین نے تبع تابعین کو اس سے آفتاب ِ علم پیدا ہوئے، محدثین عظام بھی پیدا ہوئے، بعد میں اسی طرح دین پھیلتا رہا آتا رہا۔ یہاں تک کہ برابر انہی علماء کے ذریعے انہی داعیان ِحق کے ذریعے سے انہی حقانی حضرات کے ذریعے سے آج دین ہم تک آپ تک پہنچ گیا ہے۔ ہمارے بڑے حضرات اپنا کام کرکے چلے گئے، آج دیکھئے کہاں کہاں دین پہنچ رہا ہے اور پھیل رہا ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں اُس زنجیر میں آئیں، اُس زنجیر کی کڑی بنیں اُس زنجیر کا حصّہ بنیں۔ تو آپ اسی جذبہ کے ساتھ اُسی ہمت کے ساتھ اُسی حوصلہ کے ساتھ اُسی نیت کے ساتھ اُسی اعلیٰ مقصد کے ساتھ اس دین کو دوسروں تک پہنچانے کا کام کریں۔ اگر آپ نے یہ کام کرلیا اورکرتے کرتے آپ مرگئے آپ کی روح نکل گئی، آپ کی جان نکل گئی تو آپ اُس زنجیر کا حصہ بن کرگئے۔ آپ سمجھ لیجئے جب زنجیر کا آپ حصہ بن گئے تو رسول اللہ ۖ پر جب اللہ کے انعامات ہورہے ہوں گے۔ زنجیر کی آپ کڑی ہوں گے تو آپ پر بھی وہ عنایت ہوں گے۔ اس لیے اُمت کی فضیلت ہے دوسری اُمتوں پر۔ اللہ کے رسول ۖ کی اُمت کی فضیلت دوسری امتوں پر اس لیے ہے اوروں کو یہ چیز حاصل نہیں ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو یقینا بعد میں رکھا لیکن آپ کو فضائل کے اعتبار سے