ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
ہمارے سلف نے کس صبر سے کس ہمت کے ساتھ اِن فتنوں کا مقابلہ کیا ہے۔ فتنے آتے ہیں، ظلمات آتے ہیں جو لوگ فتنوں میں ہوتے ہیں وہ اندھیروں میں ہوتے ہیں۔ اندھیرے میں آدمی حق کے نور کو کیا جانے گا ،توحید کے نور کو وہ کیا جانے گا سنت کے نور کو کیا جانے گا۔ ہمیں تو سنت کے نورکو پھیلانا ہے، ہمیں توحید کے نور کو پھیلانا ہے۔ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب بڑے پتے کی بات فرمایا کرتے تھے۔ آخر میں اِن کا بہت زور ہوتا تھا، وہ کہتے تھے دیکھو ظلمات بہت آرہی ہیں، گناہوں کی ظلمات اپنی جگہ ہیں وہ آرہی ہیں لیکن ان ظلمات کو دُور کرنے والی جو چیز ہے وہ توحید کا نور ہے، سنت کا نور ہے تو اپنے اندر اِس نور کو پیدا کرو اور توحید کی بات کہو، دوسرے تک پہنچائو۔ سنت کی بات کو یاد دِلائو۔ یہ نور ہے اِس نور کے ساتھ یہ ظلمت دور ہوجائے گی۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ جوکتابیں ہم پڑھ رہے ہیں وہ ہمیں صحیح طور پر سمجھ میں آنے لگیں۔ اگر ہم نے آج محنت سے تعلیم حاصل کرلی تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ذریعہ کتنا نور پھیلے گا۔ حضرت مولانا سیدحامد میاں صاحب رحمہ اللہ کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، ہماری نگاہ میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے ، حالانکہ وہ ان کے خلفاء میں سب سے کم سن تھے لیکن وہ خلیفۂ اعظم تھے، اُن کا مرتبہ اُن کا مقام بہت اُونچا تھا، اللہ نے اُن سے کام لیا۔ انہوں نے یہ ادارہ قائم کیا ہے، اُن کا اخلاص تھا اُن کا یہ جذبہ تھا، حوصلہ تھا اور اصل آدمی کا اخلاص ہوتا ہے۔ آج جو آپ دارالعلوم دیوبند کافیض دیکھ رہے ہیں۔ مظاہر العلوم سہارنپور کا جو آپ فیض دیکھ رہے ہیں یہ سب دارالعلوم کے بانیان کے اخلاص کی بات ہے۔ مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی کا اخلاص کام کررہا ہے۔ مولانا سعادت علی مولانا احمد علی محدث کا اخلاص کام کررہا ہے۔ مولانا..........اور بعد میں مولانا عبد الحی حسنی وغیرہ کا اخلاص کام کررہا ہے۔ اور پھر جو بعد میں اُن کو شخصیات ملیں اُن کا اخلاص کام کررہا ہے۔ اور یہاں آپ کو ایک برگزیدہ اور عالی مرتبت بانی ملا ہے تواِس پر آپ کو فخر ہونا چاہیے الحمد للہ ہمیں فخر ہے کہ آپ کے اس مدرسہ کو ایسا بانی ملا ہے جن کا اللہ سے تعلق بڑا مضبوط تھا جو بڑا ہی مخلص تھا جن کے اندر بڑا حوصلہ تھا جنہوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بڑے اعلیٰ مقاصد کے ساتھ بڑی محنتوں کے ساتھ اس اِدارے کو قائم کیا ہے اور اُن کے اخلاص جو اُن کے جانشین ہیں جو اُن کے اس فکر کو اِس مشن کو آگے بڑھارہے ہیں۔ لیکن آپ بھی اُن کے جانشین بنیئے۔ اگر آپ علم کے ساتھ عمل بھی اختیار کرتے ہیں، آپ علم کو اُس کے نور کے ساتھ حاصل کرتے ہیں، نور تقویٰ ہے۔ اگر آپ نے تقویٰ اختیار کیا تو آپ کا علم نور