ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
شخص ہے جو جماعت کے ساتھ تمام رات چلا یہاں تک کہ جب اُنہیں نیند اُن تمام چیزوں سے زیادہ پیاری لگنے لگی جو نیند کے برابر ہیں تو جماعت کے تمام افراد سوگئے مگر وہ شخص کھڑا ہوا (اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) میرے سامنے گڑگڑانے لگا اور میری آیتیں پڑھنے لگا (٣) تیسرا وہ شخص ہے جو ایک لشکر میں شامل تھا جب دُشمن سے مقابلہ ہوا تو اس کے لشکر کو شکست ہوگئی مگر وہ شخص دشمن کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوگیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا یا فتحیاب اور وہ تین شخص جن سے اللہ کو نفرت ہے اِن میں سے (١) ایک وہ شخص ہے جو بوڑھا ہوکر زنا کرے (٢) دوسرا وہ شخص ہے جو فقیر و محتاج ہوکر تکبیر کرے (٣) تیسرا وہ شخص ہے جو غنی و مال دار ہوکر ظلم کرے۔ تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں : عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ یَرْفَعُہ قَالَ ثَلٰثَة یُّحِبُّھُمُ اللّٰہُ، رَجُل قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَتْلُوْا کِتَابَ اللّٰہِ، وَرَجُل یَّتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ بِیَمِیْنِہ یُخْفِیْھَا اُرَاہُ قَالَ مِنْ شِمَالِہ، وَرَجُل کَانَ سَرِیَّةً فَانْھَزَمَ اَصْحَابُہ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ۔ (ترمذی بحوالہ مشکٰوة ص ١٦٩) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ ۖ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں۔ (ایک) وہ شخص جو رات کو اُٹھ کر (تہجد کی نماز میں) کتاب اللہ کی تلاوت کرے۔ (دوسرا) وہ شخص جو (نفلی) صدقہ اپنے دائیں ہاتھ سے دے اور اُسے چھپائے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا اُسے بائیں ہاتھ سے چھپائے ۔(تیسرا) وہ شخص جو میدانِ جنگ میں اُس وقت دُشمن کے سامنے ڈٹ جائے جب کہ اُس کے ساتھیوں کو شکست ہوگئی ہو۔ ف : ملا علی قاری رحمہ اللہ اِس حدیث پاک کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں مذکور تین افراد کو اکٹھا بیان کرنے کی حکمت شاید یہ ہو کہ یہ تینوں کے تینوں مجاہد ہیں۔ پہلا شخص جہاد فی النفس کررہا ہے کہ نفس کو سونے اور آرام کرنے سے روکتا ہے اور شب بیداری اور تلاوت کے ذریعہ اپنے اَقران (ساتھیوں)کی