ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
اس میں ہر چیز بتادی گئی ہے تو ہم اِس کو صحیح طور پر سمجھ کر اور پڑھ کر دوسروں تک منتقل کریں اور پہنچائیں۔ ہماری ذمہ داری ہے یہ اور آپ دیکھئے ایک جگہ صاف طور پر قرآن مجید میں فرمایا بھی گیا ہے دین میں تفقہ حاصل کریں اور وہیں آخر میں بتلایا گیا ہے ایک مقصد اُس کا، وہ حاصل کرنے کے بعد دین کی سمجھ پیدا کرنے کے بعد دین کا علم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے علاقوں میں جائیں، اپنے ان لوگوں کی طرف جائیں اور اُن کو ڈرائیں ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہم اِسی پر اکتفاء نہ کریں کہ ہمیں جان لینا ہے ہمیں دین کی سمجھ پیدا کرلینی ہے ہمیں دین کی معلومات حاصل کرلینی ہے ،ہم نے جان لیا ہمارا رب کس سے راضی ہوتا ہے بس کافی ہے۔ یہ ہرگز کافی نہیں ہے، ہمیں دوسروں کی فکر کرنی ہے اور ہمیں اِس راستے میں تکلیفیں جھیلنی ہیں جو مشقتیں آنی ہیں اور جو مصیبتیں آئیں گی۔ ہمارے بزرگانِ دین نے کیا کیا تکلیفیں نہیں اُٹھائیں تو جو تکلیفیں اُٹھائیں تو آج دین ہم تک پہنچا۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ کے حالات آپ جاکرکے دیکھیے، ہندوستان کے اُن علاقوں میں جہاں انہوں نے دورے کیے۔ آسام کا علاقہ، بنگال کا علاقہ، مغربی یوپی اور دِلی کے قریب کا علاقہ، تو آج آپ دیکھئے کتنے کتنے بڑے علاقے آج ایمان والے ہیں، دین والے ہیں لیکن اِن کو کیا نہیں جھیلنا پڑا، انہیں کیا تکلیفیں نہیں اُٹھانی پڑیں، انہیں کیا کچھ نہیں سننا پڑا، لیکن سن لیا دین کی خاطر اللہ کی خاطر تو آپ دیکھئے قوموں کی قومیں، برادریاں کی برادریاں آج ایمان والی بن گئیں۔ حضرت مولانا کرامت علی راج جونپوری جب اُٹھے ہیں اور دین کے لیے گئے ہیں اور حضرت سید احمد شہید کے پاس آئے تھے تو آپ جہاد پر جارہے ہیں، سرحد کی طرف اور پشاور کی طرف ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے اور جہاد کریں گے۔ کافروں سے دین کے دُشمنوں سے۔ حضرت سید صاحب نے کہا وہاں تو ہم لوگ جارہے ہیں، ایک جماعت ہے جو وہاں لگے گی کام کرے گی لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں وہاں کوئی جانہیں رہا تم جائو ذرا۔ انہوں نے بنگال اور آسام کا رُخ کرنے کو کہا۔ وہ بالکل شروع میںگئے، اور انہوں نے وہاں محنت کی اور سمجھانا شروع کیا دین کو۔ وہاں اُس وقت ہندئووں کی اکثریت تھی لیکن اُنہوں نے محنت کی اور خوب محنت کی اور اُس کا نتیجہ یہ ہوا وہاں مسلمان اقلیت میں تھے، وہ مسلمان اکثریت میں ہوگئے حالانکہ اِن کے خلاف قتل کی سازشیں ہوئیں، مارنے اور اُن کو نقصان پہنچانے کے لوگ درپے ہوگئے، اور اُن کے خلاف سازشیں کی جاتی تھیں لیکن وہ تکلیفیں برداشت کرتے تھے، صبر کرتے تھے، تحمل سے کام لیتے تھے۔ یہ کوئی ایک مثال نہیں ہے۔ کس طریقہ سے