ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
¾اكستان Ù |
|
اقعہ ہے۔ فتح الباری میں یہ واقعہ ذکر کیا ہے کہ انہیں ضرورت پیش آئی گھوڑا خریدنے کی، گھوڑے کی قیمت گھوڑے والے نے تین سو درہم لگائی اور انہوں نے دیکھا کہ یہ گھوڑا اگر ہم بیچتے تو کتنے کا بیچتے۔ انہوں نے دیکھا کہ گھوڑے کی قیمت زیادہ ہے لیکن یہ میری رعایت کررہا ہے یا اِس کوصحیح دام معلوم نہیں صحیح اندازہ لگانہیں پارہا۔ انہوں نے کہا اِس گھوڑے کے دام اور بڑھائو۔ اُسے تعجب ہوا اور حیرت ہوئی کہ ہم اِن کو تین سو درہم میں دے رہے ہیں اور انہیں کیا ہوگیا ،کہتے ہیں کہ دام اور بڑھائو۔ اُس گھوڑے والے نے دام اور بڑھائے چار سو درہم کردیے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ نے کہا نہیں دام اور بڑھائو۔ پانچ سو درہم کردیے۔ جریر بن عبد اللہ نے کہا دام اور بڑھائو انہوں نے چھ سو درہم کردیے۔ انہوں نے کہا دام اور بڑھائو اِس سے زیادہ کا ہے، انہوں نے سات سو درہم کردیے، انہوں نے کہا دام اور بڑھائو اِس سے زیادہ کا ہے، انہوں نے آٹھ سو درہم کردیے۔ اور جریر بن عبد اللہ نے وہ گھوڑا جو ہے خرید لیا آٹھ سو درہم دے کر۔ یہ تھے صحابہ کرام جو اپنے لیے پسند کرتے وہی دوسرے کے لیے پسند کرتے تھے۔ جیسا اُن کو اپنی منفعت کا خیال رہتا تھا ویسے ہی دوسرے کی منفعت کا خیال رہتا تھا۔ اگر ہم نے یہ اخلاق پیدا کیے تو صحیح طور پر ہم اُس وقت مؤثر ہوں گے ہماری بات کا اُس وقت اثر پڑے گا جب ہم میں صحیح جذبہ ہوگا جب ہماری صحیح نیت ہوگی جب ہمارا صحیح مقصد ہوگا جب ہمارا صحیح عمل ہوگا جب ہم اچھی زندگی کے ساتھ رہیں گے، جب ہم صحیح نمونہ پیش کرکے رہیں گے، جب ہم تقوے کے ساتھ رہیں گے، جب ہم احتیاط کے ساتھ رہیں گے۔ اپنی ازدواجی زندگی میں بھی احتیاط ہو، معاشرتی زندگی میں رہن سہن میں بھی احتیاط ہو، دوسروں کے حقوق کی فکر ہو، دوسروں کا خیال ہو۔ جب یہ سب ہم کریں گے اُس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ بہرحال ہمارا اور آپ کا یہ فریضہ ہے ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے کہ ہمیں دین کی فکر کرنی ہے، دین کو ہر جگہ پہنچانا ہے۔ حق دشمنوں کو بھی پہنچانا ہے، مخالفوں کو بھی پہنچانا ہے، دوستوں کو بھی پہنچانا ہے اور دوسری قوموں کو بھی پہنچانا ہے، دوسری تہذیبوں کو بھی پہنچانا ہے۔ دوسرے علاقوں کو پہنچانا ہے، بتادینا ہے کہ یہ تہذیب برحق ہے اس تہذیب میں سارے انسانوں کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے، اور جو تہذیبیں ہیں وہ تہذیبیں ایسی ہیں کہ وہ انسانی حقوق کو سلب کررہی ہیں، انسانی حقوق کو نقصان پہنچارہی ہیں حالانکہ لیبل وہ لگائے ہوئے ہیں، ہمارے ہاں انسانی حقوق کا خیال رکھا گیا ہے لیکن یہ بات حقیقت کے خلاف ہے۔ آج ہماری ذمہ داری بنتی ہے جو آپ حدیث کی کتابیں پڑھ رہے ہیں جو قرآن مجید میں پڑھ رہے ہیں