ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
اكستان |
|
فضیلت آپ کی سبقت و ہجرت کے معترف ہیں ''۔ اس دَور میں سب کی ایسی حالت تھی کہ کسی کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آرہی تھی۔ جیسے کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور دور ِفتن میں یہی حال ہوا کرتا ہے۔ ابن ِتیمیہ کہتے ہیں : فَیَرِدُ عَلَی الْقُلُوْبِ مَایَمْنَعُھَا مِنْ مَّعْرِفَةِ الْحَقِّ وَقَصْدِہ وَلِھٰذَا یُقَالُ فِتْنَة عَمْیَآئ صَمَّآئُ وَیُقَالُ فِتَن کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ۔ (منھاج السنة ج٢ ص ٢٤٦) ''قلوب پر ایسی کیفیت وارد ہوتی ہے جو معرفت حق اور ارادۂ حق سے روک دیتی ہے، اسی لیے (عربی میں) کہا جاتا ہے کہ اندھا بہرا فتنہ اور کہا جاتا ہے کہ ایسے فتنے جیسے تاریک رات کے حصے''۔ اِن حضرات کی گفتگو سے یہی بات واضح ہورہی ہے کہ وہ سخت پریشان اور حیران رہے ہیں۔ ذہن کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا ۔یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ یہ حضرات ہر ہیجان کے زمانہ میں حتی المقدور یکسو رہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امیر المؤمنین ہی کہہ کر گفتگو کررہے ہیں۔ ان کے فضائل کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ ان حضرات کی یہ باتیں سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آیات ِقرآن پاک سے استدلال فرمایا۔ فَقَالَ عَلِیّ اَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اَمَرَکُمْ اَنْ تَأْمُرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ فَقَالَ (وَاِنْ طَآئِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوْا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیئَ اِلٰی اَمْرِ اللّٰہِ) ۔ ''حضرت علی نے فرمایا! کیا آپ لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرو۔ اُس نے ارشاد فرمایا ہے اگر مؤمنین کی دو جماعتیں لڑپڑیں تو اُن میں صلح کرادو۔ پھر اگر ایک نے دوسرے کے خلاف بغاوت کی ہو تو جو جماعت بغاوت کرے اُس سے لڑو حتیٰ کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے''۔ اِس کے جواب میں حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث تو پیش نہیں فرمائی جس میں آتا ہے کہ ان سے جناب رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ ایسے وقت حضرت آدم علیہ السلام کے (مقتول) بیٹے کی طرح بن جانا، شاید وہ حدیث اِس وجہ سے نہ ذکر فرمائی ہوگی کہ اِن سب حضرات کے علم میں پہلے سے ہوگی۔ اس لیے اس