ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
اكستان |
|
بیعت نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت کے وقت مدینہ منورہ میں موجود ہی نہ تھے، وہ شہادت ِعثمان کے بعد فوراً ہی شام کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ ( البدایہ ج ٧ ص ٢٢٧ )باقی حضرات جو مدینہ شریف میں تھے بیعت ہوگئے تھے۔ نیز عباسی صاحب نے یہ نام بغیر مطلب سمجھے ابن خلدون سے نقل کردیے ہیں کیونکہ حضرت ابوسعید خدری کی حضرت علی کے ساتھ معرکوں میں شرکت بخاری شریف میں موجود ہے۔ (بخاری ج١ ص ٥٠٩) حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما بھی بیعت ہوئے ہیں۔ یہ حضرات مشورے بھی دیتے رہے ہیں لیکن اِن میں کافی حضرات یکسو رہے ہیں۔ روایات سے ثابت ہے کہ ان حضرات کے پیش نظر یہ تھا کہ کم سے کم قتال ہو۔ اور کچھ حضرات کے ایسے واقعات پیش آچکے تھے جن میں جناب رسول اللہ ۖ نے انہیں کسی بھی مسلمان پر ہتھیار اُٹھانے سے منع کردیا تھا جیسا کہ ابھی روایات میں ہم پیش کرتے ہیں : وَدَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَسَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ وَالْمُغِیْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مَعَ اُنَاسٍ مَعَھُمَ وَقَدْ کَانُوْا تَخَلَّفُوْا عَنْ عَلِیٍّ حِیْنَ خَرَجَ اِلٰی صِفِّیْنَ وَالْجَمَلِ فَقَالَ لَھُمْ عَلٰی مَاخَلَفَکُمْ عَنِّیْ قَالُوْا قُتِلَ عُثْمَانُ وَلَانَدْرِیْ اَحَلَّ دَمُہ اَمْ لَا ؟ وَقَدْ کَانَ اَحْدَثَ اِحْدَاثًا ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوْہ فَتَابَ ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِیْ قَتْلِہ حِیْنَ قُتِلَ فَلَسْنَا نَدْرِیْ اَصَبْتُمْ اَمْ اَخْطَأْتُمْ ؟ مَعَ اَنَاعَارِفُوْنَ بِفَضْلِکَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَابِقَتِکَ وَھِجْرَتِکَ ۔ ''عبد اللہ بن عمر و سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ اور اُن کے ساتھ جو لوگ تھے، یہ سب حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ' جمل اور صفین گئے تو یہ لوگ نہیں گئے تھے۔ ان حضرات سے حضرت علی نے فرمایا: کیا بات تھی کہ آپ لوگ میرے ساتھ نہیں آئے تھے۔ کہنے لگے، حضرت عثمان شہید کردیے گئے اور ہم نہیں جانتے کہ اُن کو شہید کرنا درست تھا یا نہیں ؟ انہوں نے کچھ ایسے کام کیے ضرور تھے جو نئے (محل ِاعتراض) تھے (لیکن) پھر ان سے آپ لوگوں نے کہا توبہ کیجئے ۔انہوں نے توبہ کی پھر جب انہیں شہید کیا گیا تو آپ لوگ ان کے قتل میں داخل ہوئے تو ہم تو نہیں جان سکتے کہ آپ لوگوں نے صحیح کام کیا یا غلط؟ اِس کے ساتھ ہم اے امیر المؤمنین! آپ کی