Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006

اكستان

18 - 64
بیعت نہیں ہوئے تھے کیونکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت کے وقت مدینہ منورہ میں موجود ہی نہ تھے، وہ شہادت ِعثمان کے بعد فوراً ہی شام کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ ( البدایہ  ج ٧  ص ٢٢٧ )باقی حضرات جو مدینہ شریف میں تھے بیعت ہوگئے تھے۔ 
	نیز عباسی صاحب نے یہ نام بغیر مطلب سمجھے ابن خلدون سے نقل کردیے ہیں کیونکہ حضرت ابوسعید خدری کی حضرت علی کے ساتھ معرکوں میں شرکت بخاری شریف میں موجود ہے۔ (بخاری  ج١  ص ٥٠٩) 
	حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہما بھی بیعت ہوئے ہیں۔ یہ حضرات مشورے بھی دیتے رہے ہیں لیکن اِن میں کافی حضرات یکسو رہے ہیں۔ روایات سے ثابت ہے کہ ان حضرات کے پیش نظر یہ تھا کہ کم سے کم قتال ہو۔ اور کچھ حضرات کے ایسے واقعات پیش آچکے تھے جن میں جناب رسول اللہ  ۖ  نے انہیں کسی بھی مسلمان پر ہتھیار اُٹھانے سے منع کردیا تھا جیسا کہ ابھی روایات میں ہم پیش کرتے ہیں  : 
وَدَخَلَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ وَسَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ وَالْمُغِیْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ مَعَ اُنَاسٍ مَعَھُمَ وَقَدْ کَانُوْا تَخَلَّفُوْا عَنْ عَلِیٍّ حِیْنَ خَرَجَ اِلٰی صِفِّیْنَ وَالْجَمَلِ فَقَالَ لَھُمْ عَلٰی مَاخَلَفَکُمْ عَنِّیْ قَالُوْا قُتِلَ عُثْمَانُ وَلَانَدْرِیْ اَحَلَّ دَمُہ اَمْ لَا ؟ وَقَدْ کَانَ اَحْدَثَ اِحْدَاثًا ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوْہ فَتَابَ ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِیْ قَتْلِہ حِیْنَ قُتِلَ فَلَسْنَا نَدْرِیْ اَصَبْتُمْ اَمْ اَخْطَأْتُمْ ؟ مَعَ اَنَاعَارِفُوْنَ بِفَضْلِکَ یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَابِقَتِکَ وَھِجْرَتِکَ ۔
''عبد اللہ بن عمر و سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ اور اُن کے ساتھ جو لوگ تھے، یہ سب حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ' جمل اور صفین گئے تو یہ لوگ نہیں گئے تھے۔ ان حضرات سے حضرت علی نے فرمایا: کیا بات تھی کہ آپ لوگ میرے ساتھ نہیں آئے تھے۔ کہنے لگے، حضرت عثمان شہید کردیے گئے اور ہم نہیں جانتے کہ اُن کو شہید کرنا درست تھا یا نہیں ؟  انہوں نے کچھ ایسے کام کیے ضرور تھے جو نئے (محل ِاعتراض) تھے (لیکن) پھر ان سے آپ لوگوں نے کہا توبہ کیجئے ۔انہوں نے توبہ کی پھر جب انہیں شہید کیا گیا تو آپ لوگ ان کے قتل میں داخل ہوئے تو ہم تو نہیں جان سکتے کہ آپ لوگوں نے صحیح کام کیا یا غلط؟ اِس کے ساتھ ہم اے امیر المؤمنین! آپ کی
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 5 1
4 حضرت اُسید باکرامت صحابی : 5 3
5 قرآن کی تلاوت اور سکون : 6 3
6 فرشتوں کے اُترنے سے بھی سکون ہوتا ہے : 6 3
7 نمیدان ِجہاد اور سکون : 7 3
8 سکینہ کیا ہے ؟ 7 3
9 آخرت میں اَعمال کا وزن بھی ہوگا : 7 3
10 ہار کی گمشدگی اور وضوء کا بدل : 8 3
11 باپ کا غصّہ اور بیٹی کی سعادت مندی : 8 3
12 بوبکر کے خاندان کی برکات کا اعتراف 9 3
13 یزید اور شراب 10 1
14 مدینہ اور اہل ِشام 13 13
15 لوٹ اور قتل عام : 15 13
16 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 21 1
17 حضرت فاطمہ کی ذہانت اور اُس پر رسول اللہ ۖ کا مدح فرمانا : 21 16
18 ایثار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا : 22 16
19 صدق ِ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا : 23 16
20 کثرت خدمت ِعلمی حضرت عائشہ اور اُس کی وجہ : 23 16
21 اِصلاح ِ نیت اور دین کی دعوت 25 1
22 بسلسلہ اصلاح ِخواتین 34 1
23 عورتوں کے عیوب اور اَمراض 34 22
24 شیخی کا مرض : 34 22
25 شیخی اور تکبر و ریاکاری سے بچنے کی عمدہ تدبیر 35 22
26 نبوی لیل ونہار 36 1
27 آنحضرت ۖ کی عادات ِطیبہ مجلس کے بارے میں : 36 26
28 مکتوب ِگرامی حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب دامت برکاتہم 38 1
29 ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے مقلدین کے بارے میں 39 1
30 بقیہ : یزید اور شراب 46 13
31 گلدستہ ٔ احادیث 47 1
32 تین شخصوں سے اللہ کو محبت ہے اور تین شخصوں سے نفرت ہے : 47 31
33 تین شخص جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتے ہیں : 48 31
34 بقیہ : عورتوں کے عیوب اور امراض 49 22
35 دیارِ حبیب میں چند روز 50 1
36 دینی مسائل 53 1
37 عید کی نماز کا طریقہ : 53 36
38 تکبیر تشریق : 56 36
39 عالمی خبریں 62 1
40 گُستاخِ رسول ۖ اپنے انجامِ بد کو پہنچا 62 39
41 ایک تھا حرام خور 62 39
42 بیچاری سائنس ……کبھی کچھ تو کبھی کچھ 63 39
Flag Counter