ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2006 |
اكستان |
|
یہ اسماء گرامی عباسی نے تاریخ ابن خلدون سے لے کر لکھ د یئے ہیں( ابن خلدون ج ٢ ص ١٥١)۔ ابن خلدون نے ان حضرات کے بیعت ہوجانے کا بھی ذکر کیا ہے مگر وہ عباسی صاحب نے نہیں لکھا۔ وہ لکھتے ہیں : ثُمَّ جَآؤُا بِقَوْمٍ مِمَّنْ تَخَلَّفَ قَالُوْا نُبَایِعُ عَلٰی اِقَامَةِ کِتَابِ اللّٰہِ ثُمَّ بَایَعَ الْعَامَّةُ۔ (ابن خلدون ص ١٥١ ج٢) ''پھر ان لوگوں کو لائے جو پیچھے رہے تھے، جنہوں نے اب تک بیعت نہ کی تھی۔ وہ کہنے لگے کہ ہم اقامت کتاب اللہ پر بیعت کرتے ہیں۔ اس کے بعد عام لوگوں نے بیعت کی اور یہی بات صحیح ہے''۔ ابن العربی نے العواصم میں عباسی صاحب کی بات اور اُس کا جواب لکھا ہے : قَالَتِ الْعُثْمَانِیَّةُ تَخَلَّفَ عَنْہُ مِنَ الصَّحَابَةِ جَمَاعَة مِّنْھُمْ سَعْدُ بْنُ اَبِیْ وَقَّاصٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَابْنُ عُمَرَ وَاُسَامَةُ بْنُ زَیْدٍ وَسِوَاھُمْ مِّنْ نُّظَرَآئِھِمْ۔ قُلْنَا اَمَّا بَیْعَتُہ فَلَمْ یَتَخَلَّفْ عَنْھَا وَاَمَّانُصْرَتُہ فَتَخَلَّفَ عَنْھَا قَوْم مِّنْھُمْ مَّنْ ذَکَرْتُمْ لِاَنَّھَا کَانَتْ مَسْأَلَةً اِجْتِھَادِیَّةً فَاجْتَھَدَ کُلُّ وَاحِدٍ وَاَعْمَلَ نَظْرَہ وَاَصَابَ قَدْرَہ ۔ ''عثمانی لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صحابۂ کرام کا ایک گروہ اِن کا ساتھ دینے سے ہٹارہا۔ ان میں حضرت سعد بن ابی وقاص، محمد بن مسلمہ، ابن عمر اور اُسامہ بن زید او ر ان کے سوا اِن جیسے اور حضرات تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کا جہاں تک تعلق ہے تو اِس میں تو کوئی پیچھے نہیں۔ البتہ اِن کی مدد (قتال میں) تو اُس میں لوگ پیچھے رہے ہیں۔ ان میں وہ حضرات بھی ہیں جن کا تم لوگوں نے ذکر کیا کیونکہ قتال ایک اجتہادی مسئلہ ہے تو ہر ایک نے اجتہاد کیا اور اپنی سوچ کام میں لائے اور جہاں تک جس کی نظر پہنچی اُس پر عمل کیا۔'' تائید کے لیے اِس کے حاشیہ میں تمہید باقلانی کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ان حضرات میں نعمان بن بشیر (جو رسول اللہ ۖ کے ہجرت فرمانے کے بعد پیدا ہوئے تھے)